مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی داخلی سلامتی کے ادارے "شاباک” کے سربراہ نے پارلیمنٹ کی خارجہ ودفاع کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض ارکان کی جانب سے صدر محمود عباس کو شک وشبے کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے اور ان پر فلسطینی مزاحمت کاروں کی پشتیبانی کا الزام بھی عاید کیا جا رہا ہے لیکن ان کی تحقیقات میں صدر محمود عباس کا فلسطینیوں کی تحریک مزاحمت سے قطعا کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ مسلح مزاحمت کی روک تھام کی بھرپور کوششیں بھی کررہے ہیں۔
یورام کوھین نے کہا کہ محمود عباس خود نہ تو اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی اعلانیہ حمایت کرتے ہیں اور نہ ہی درپردہ وہ اس پالیسی پر عمل پیرا ہیں، البتہ ان کی ٹیم میں ایسے لوگ ہوسکتے ہیں جو فلسطینیوں کی مسلح مزاحمت کی حامی ہیں۔
یورام کوھین نے کہا کہ بیت المقدس میں یہودی عبادت گاہ میں یہودیوں کے قتل عام جیسے واقعے پر صدر محمود عباس کو بھی صدمہ پہنچا ہے اور انہوں نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ صدر عباس ایسے واقعات کی حوصلہ افزائی نہیں کرسکتے۔
موجودہ تشویشناک حالات کے تناظر میں بات کرتے ہوئے یہودی سیکیورٹی ادارے کے سربراہ نے تجویز دی کہ کچھ عرصے کے لیے اسرائیل کی وی آئی پی شخصیات مسجد اقصیٰ میں داخلے سے گریز کریں کیونکہ کسی بھی وقت کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آسکتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
