مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ایک عبرانی ٹی وی کودیے گئے انٹرویو میں موشے یعلون نے کہا کہ ہمیں اس حقیقت سے صرف نظرنہیں کرنا چاہیے کہ ہمارے بعض محترم ارکان پارلیمنٹ نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسجدا قصیٰ میں باربار داخلے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں حالات زیادہ خراب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کا معاملہ نہایت نازک ہے اور ہمیں اس میں دخلے کے لیے سوچ سمجھ سے کام لینا چاہیے۔
تل ابیب نے اردن کے ساتھ مسجد اقصیٰ کے حوالے سے ایک معاہدہ بھی کررکھا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے اسرائیل اس بات کا پابند ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کی نگرانی اورسرپرستی اردن کو دے گا اور مسلمانوں کے قبلہ اول کا سنہ 1967ء سے قبل کا اسٹیٹس برقرار رکھا جائے گا۔ جب یہ معاہدہ موجود ہے توہمیں اس کی بھی پاسداری کرنی چاہیے۔
موشے یعلون نے ارکان پارلیمنٹ موشے ویگلن، چولی معلم، زیپی حوطویلی اور دیگر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ہفتے کئی ارکان پارلیمان نے حالات کی کشدگی کے باوجود مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر زیادہ اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کی، جس کی قطعا کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اسرائیلی وزیرنے حسب معمول اپنی تیروں کا ہدف حماس اور صدر محمود عباس کی جانب بھی رکھا۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس میں کشیدگی حماس اورفلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کی پیدا کردہ ہے۔انہوں نے یہودیوں کو صبرو تحمل سے کام لینے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی اشتعال انگیز کارروائی میں پہل کرنے سے گریز کریں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
