مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جمعہ کے روز نامعلوم افراد نے غزہ کی پٹی میں صدر محمود عباس کے حریف گروپ محمد دحلان کے حامیوں کے کئی مکانات کو بم دھماکوں سے اڑا دیا گیا تھا۔
یہ دھماکے ایک ایسے وقت میں کیے گئے جب غزہ کی پٹی میں الفتح کے بانی رہ نما یاسرعرفات مرحوم کی برسی کی تیاریاں کی جا رہی تھیں۔ خیال رہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس اور منحرف جلا وطن لیڈر محمد دحلان دونوں خود کو یاسرعرفات مرحوم کا سیاسی وارث ہونے کا دعویٰکرتے ہیں۔
یاسرعرفات کی برسی کے موقع پرپارٹی کی قیادت میں اختلافات کا ابھر کرسامنے آنا اس بات کابین ثبوت ہے کہ محمود عباس اور دحلان ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگرچہ ابھی تک مکانات کو بارود سے اڑانے کے واقعات کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے تاہم دحلان اور ان کے حامیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ کارروائی صدر عباس گروپ ہی کی ہوسکتی ہے کیونکہ فلسطین میں ایسا کوئی دوسرا گروپ موجود نہیں جو اس نوعیت کی کاررائیاں کرتا رہے۔
مبصرین بھی یہی کہتے ہیں کہ بھلے مکانات مسماری کی کارروائی میںکسی دوسرے عنصرکا ہاتھ کیوں نہ ہو لیکن اس نے محمود عباس اور دحلان کو ایک بار پھر ایک دوسرے کے مد مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ موجودہ حالات میں فوری طورپر یہی تصور کیا جائے گا کہ دحلانی گروپ کے رہ نمائوں کے مکانات کو ابو مازن کے حامیوں نے تباہ کیا ہے۔
تاہم اس ضمن میں اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب تباہ شدہ مکانات کے قریب سے کاغذ پرلکھی ایک تحریر ملی جس میں عراق اور شام میں سرگرم گروپ دولت اسلامی’’داعش‘‘ کا نام موجود ہے۔ اس تحریر میں لکھا گیا ہے کہ یہ کارروائی انہوںنے کی ہے کیونکہ وہ پہلے دحلانی گروپ کو 16 نومبر تک مکانات خالی کرنے کی دھمکی دے چکے تھے۔
فتح کی داخلی محاذ آرائی
فلسطینی سیاسی تجزیہ نگار غزہ کی پٹی میں دحلان گروپ کے مکانات کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنے کے واقعات کو مرحوم لیجنڈ لیڈر یاسرعرفات کے جانشینوں کےدرمیان اقتدار کے لیے محاذ آرائی سے تعبیر کرتے ہیں۔
فلسطینی دانشور ایاد القرا نے مرکزاطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الفتح اس وقت داخلی محاذ آرائی کے ایک خوفناک دور سے گذر رہی ہے۔ ویسے جماعت میں کئی دھڑےموجود ہیں تاہم زیادہ نمایاں صدر محمود عباس اور محمد دحلان کے دھڑے ہیں۔
ایاد القرا کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں دحلانی گروپ کے حامیوں کے مکانات کو دھماکوں سے ایک ہی وقت میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ اس مخالف عناصر کی جانب سے فتح کی قیادت کے لے ایک متبادل دھمکی ہے۔ چاہے ان واقعات میںکوئی بھی ملوث ہو مگر اس نے فتح کے صفوں میں چھپی منافرت کو ایک بارپھر منظر عام پر لا کھڑا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب غزہ کی پٹی میں دحلان کے حامیوں کے مکانات کو دھماکوں سے اڑایا جا رہا تھا عین اسی لمحے غرب اردن میں ان کے ایک دوسرے حامی لیڈر زیاد ابو عین کے مکان پر چھاپہ مار گیا۔ ان واقعات کی کڑیاں آپس میں ملتی ہیں۔ جو فتح کی داخلی کشمکش کا بین ثبوت ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ایاد القرا نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں منحرف فتحاوی گروپ کے مکانات کو دھماکوں سے اڑانے کا واقعہ کئی پراسرار پردوں کی تہہ میں چھپا ہواہے۔ اگرچہ داعش کی جانب سے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرنے کا تاثردیا گیا ہے مگر میرا خیال ہے کہ یہ رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور اصل منصوبہ سازوں کو چھپانے کی کوشش ہے۔
ایک سوال کے جواب میں فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ فتح کی قیادت میں پائے جانے والےاختلافات جماعت کے مستقبل پرسخت منفی اثرات مرتب کریںگے۔ فتحاوی قیادت یاسرعرفات کے بعد سے کسی ایک لیڈر پر یکسو نہیںہوسکی ہے جو جماعت کے مستقبل پرایک سوالیہ نشان ہے۔
تازہ کشیدگی کہاں پیدا ہوئی؟
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فتح کے دونوں منحرف دوھڑوں کے مابین تازہ کشیدگی چند روز قبل اس وقت پیدا ہوئی جب یاسرفات کی برسی کے حوالے سے غزہ کی پٹی میں ایک جلسے کا اعلان کیا گیا۔غزہ میں فلسطینی وزارت داخلہ نے کتبیہ گرائونڈ میں جلسہ کرنے کی اجازت دے دی مگرفتحاوی قیادت اس کے انتظامی معاملات میں ایک دوسرے سے الجھ پڑی۔
فتح کے مرکزی رہ نما ھشام ساق اللہ نے بتایا کہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب جلسے میں شرکت کے لیے آنے والے فتحاوی کارکنوں کی بسوں اور دوسری گاڑیوں کو مخالف گروپ کے حامیوں نے راستے ہی میں روک دیا۔ اس واقعے نے فتح کی مرکزی قیادت اور عام کارکنوں میں بھی نہ صرف مایوسی پیدا کی بلکہ ایک دوسرے کے خلاف نفرت میں اضافہ کیا۔ ھشام ساق اللہ کا کہنا تھا کہ فتح کے ایک گروپ کا خیال ہےکہ منحرف گروپ کو یاسرعرفات کی برسی کے موقع پر جلسہ کرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ حقیقی معنوں میں شہید یاسرعرفات کی وارث محمود عباس ہیں۔
خیال رہے کہ یہ پہلی دفعہ نہیںہوا کہ یاسرعرفات کی برسی کی تقریب میں فتحاوی قیادت ایک دوسرے سے الجھ پڑی بلکہ پچھلے سال بھی عرفات مرحوم کی برسی کے موقع پر اسی نوعیت کی جھڑپیں ہوچکی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
