جمعرات کو بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ ریاستی دہشت گردی کے دوران شہید ہونے والے نوجوان معتز حجازی کی پوسٹمارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے اس پر حملے کے دوران گولیوں کی بوچھاڑ کردی تھی۔
اس کے جسم میں نہایت قریب سے 20 گولیاں ماری گئیں جن کے لگنے سے شہید کا جسد خاکی چھلنی بن چکا ہے۔ بیشتر گولیاں سینے، گردن، سر، دھڑ اور جسم کے اوپر والے حصے میں ماری گئیں جس کے نتیجے میں اس کی موقع پرہی شہادت ہوگئی تھی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق معتز حجازی شہید کے خاندان کے وکیل صابر العالول کو صہیونی حکام کی جانب سے شہید کی پوسٹ مارٹم رپورٹ فراہم کردی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس کے جسم میں نہایت قریب سے کلاشنکوف کی 20 گولیاں پیوست کی گئیں۔ اندھا دھند گولیوں کی بارش اور نہایت قریب سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں شہید کے جسم سے گوشت اکھڑ کر دور جا گرا اور اس کا جسم زخموں سے چلھنی کردیا گیا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سینے اور دل میں 4 گولیاں ماری گئیں، گلے میں تین، گردن میں عقبی طرف سے ایک، کندے پر ایک دائیں طرف چہرے پر ایک، دھڑ میں ایک اور دائیں ٹانک پر چار اور بائیں پر بھی چار گولیاں ماری گئیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
