خیال رہے کہ صہیونی فوج نے کل جمعرات کو بیت المقدس کی سلوان کالونی میں ایک مکان میں گھس کر32 سالہ مجاھد معتزحجازی ک وگولیاں مار کر شہید کر دیا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے دو روز پیشتر بیت المقدس میں ایک انتہا پسند یہودی ربی یہودا گلیک پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی تھی جس میں گلیک شدید زخمی ہو گیا تھا۔
عبرانی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہودا گلیک پر قاتلانہ حملہ کرنے والا فلسطینی مزاحمت کار بیگن ہائوس کے سامنے ایک ایسے ہوٹل میں پہنچ گیا تھا جہاں اکثر وزیراعظم سمیت کئی اہم حکومتی شخصیات بھی قیام کرتی ہیں۔
ٹی وی رپورٹ میں معتز حجازی کے بیگن سینٹر کے سامنے ایک فائیو اسٹار ہوٹل تک پہنچنے اور اس میں کچھ دیر قیام کرنے پ راپنے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پربھی سوالیہ نشان لگائے ہیں اور کہا ہے کہ ایک ایسا شخص جو گیارہ سال تک اسرائیلی جیلوں میں رہا وہ سیکیورٹی اداروں کی نظروں سے بچ کر کیسے ایک حساس علاقے میں داخل ہوا۔ اگر وہ اس ہوٹل میں قیام کر سکتا ہے تو وہ وزیراعظم بجمن نیتن یاھو سمیت اسرائیل کی ہراہم شخصیت کو قاتلانہ حملے کا نشانہ بنا سکتا تھا۔
ٹی وی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ اداروں کو معلوم تھا کہ معتز حجازی نہ صرف ایک سابقہ قیدی ہے بلکہ اس کا ایک ایسی تنظیم کے ساتھ بھی تعلق ثابت ہو چکا ہے جو اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ اس کے باوجود اس پر نظر نہ رکھنا اور کامیابی سے اس کا بیگن سینٹر کے قریب ہوٹل میں اسلحہ سمیت پہنچ جانا سیکیورٹی اداروں کی بدترین ناکامی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے جس ہوٹل میں فلسطینی حملہ آور نے قیام کیا اس میں اکثر وزیراعظم نیتن یاھو اور صدر ریفلین قیام کرتے ہیں۔
ٹی وی رپورٹ میں بعض دوسری تحقیقات کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ معتز حجازی اس ہوٹل میں ملازمت کرتا تھا اور بیگن سینٹر کے سامنے جاری کانفرنس پر اس نے نظر رکھی ہوئی تھی جہاں یہودا گلیک بھی شریک تھا۔ کانفرنس کے اختتام پر اس نے کچھ دیر کے لیے ہوٹل سے باہر نکلنے کی اجازت چاہی جو اسے مل گئی۔ اس نے باہرآکر گلیک کا انتظار شروع کر دیا۔ جب گلیک باہرنکلا تو اس پر اندھا دھند گولیاں چلا دیں جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوکر گرگیا۔
تاہم ہوٹل کے مالک کا کہنا ہے کہ معتزحجازی اس کے ہوٹل میں کام نہیں کرتا تھا۔ ہوٹل کے مالک کا کہنا ہے کہ وہ پوری چھان بین کے بعد ہی کسی شخص کو ملازمت دیتے ہیں۔ ایسا شخص جس کا کسی تنظیم سے کوئی تعلق ہو یا وہ ماضی میں سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں رہ چکا ہو اسے ملازمت نہیں دی جاتی ہے۔ خود بیگن سینٹر کی انتظامیہ کا بھی کہنا ہے کہ ان کا کوئی فرد ہوٹل میں کام نہیں کرتا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ آیا یہودا گلیک پرحملہ کرنے والا معتز حجازی تھا یا کوئی اور کارروائی میں ملوث تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
