مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق رسمیہ عودہ پر الزام ہے کہ اس نے بیس سال پیشتر امریکا کے سفر کے دوران امریکی سفارت خانے کو اپنے ماضی کے بارے میں درست معلومات نہیں دی تھیں۔ جس پر بعد ازاں اسے امریکا میں حراست میں لے کر اس کے خلاف غلط معلومات کی فراہمی کی بناء پرمقدمہ چلایا گیا تھا۔
امریکی یونیورسٹیوں سے وابستہ ایک سو خواتین پروفیسرز نے صدر باراک اوبا کو ایک مشترکہ مکتوب ارسال کیا ہے جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کی ایک وفاقی عدالت میں رسمیہ عودہ کے خلاف چل رہے مقدمہ کو ختم کرنے کا فیصلہ کریں۔
یاد رہے کہ امریکی پراسیکیوٹر نے الزام عاید کیا ہے کہ رسمیہ عودہ ماضی میں اسرائیل کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔ اس نے سنہ 1969ء میں بیت المقدس میں ایک کاروباری مرکز میں بم دھماکے میں معاونت کی تھی جس میں متعدد یہودی ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔ اسے اسرائیل نے حراست میں لے لیا تھا تاہم فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے پہلے معاہدے کے دوران اسے رہا کردیا گیا تھا۔ رہائی کے بعد اس نے امریکی شہریت کے حصول کے لیے درخواست دی تھی تاہم اس درخواست میں اس نے اسرائیل کے خلاف مسلح جدو جہد کی حمایت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
اسی الزام کی پاداش میں امریکی عدالت نے اسے 10سال قید اڑھائی لاکھ ڈالر جرمانہ اور رہائی کے بعد امریکی شہریت کی منسوخی کی سزا سنائی ہے۔
رسمیہ کو دوران حراست جنسی، جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا
امریکی خواتین پروفیسرز نے اپنے مکتوب میں رسمیہ یوسف عودہ کے بارے میں صدر باراک اوباما کو مکمل تفصیلات سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ بیت المقدس میں ایک تجارتی مرکز میں دھماکے کے الزام میں رسمیہ کو بلا جواز گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ اس کا اس دھماکے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ صہیونی تفتیش کار 10 سال تک اسے جیلوں میں جسمانی، ذہنی اور جنسی تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔ اپنی رہائی تک وہ مسلسل اسرائیلی درندگی کا سامنا کرتی رہی ہے۔ اسرائیلی فوج نے اس پر تشدد کرکے اس سے بم دھماکے میں ملوث ہونے کے اعترافات کرائے تھے۔
مکتوب میں صدر اوباما سے کہا گیا ہے کہ رسمیہ عودہ نے امریکا میں سکونت اختیار کرکے کوئی گناہ نہیں کیا ہے۔ اس نے امریکا میں عرب، امریکا نیٹ میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر ایک اہم سماجی کارکن کے خدمات انجام دی ہیں۔ اس نے امریکا ہی میں عرب اور فلسطینی خواتین کے حقوق کے لیے ایک کمیٹی قائم کی۔ وہ عرب معاشروں میں خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف بھی نبرد آزما رہی ہے۔ امریکا اور فلسطین میں اس کا سیاسی،اقتصادی، سماجی اور ثقافتی شعبے میں نہایت مثبت کردار رہا ہے۔
سنہ 2013ء میں اسے شیکاگو ریاست کی جانب سے ایک اہم ثقافتی ایوارڈ بھی دیا جاچکا ہے جو اس کی چالیس سالہ سماجی خدمات کا اعتراف ہے۔
امریکی خواتین اساتذہ نے اپنی ساتھی رسمیہ عودہ کی رہائی اور اس سے دی گئی سزا کے خاتمے کے لیے امریکا میں عرب اور مقامی باشندوں کی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔ خواتین پروفیسرز ملک کے مختلف علاقوں میں تقریبات منعقد کرتی اور رسمیہ عودہ کے مقدمہ کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
