اسرائیل کے ایک عبرانی اخبار ’’ہارٹز‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بیت المقدس میں جاری فلسطینیوں کے پرتشدد مظاہروں کو اسرائیلی حکومت ’’تحریک انتفاضہ‘‘ کی شکل میں دیکھ رہی ہے اور اسی طریقے سے اسے ڈیل کرنے کے لیے سخت ترین قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جا رہا ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے پولیس اور فوج سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بیت المقدس میں فلسطینیوں کے روز مرہ کی بنیاد پر جاری مظاہرے روکنے کے لیے کھلی چھٹی دینے کی اجازت دی ہے۔ اس ضمن میں پولیس نے بیت المقدس میں احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے والے بچوں کے والدین کو بھی گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا اور ان پر بھاری جرمانے کیے جائیں گے تاکہ انہیں اپنے بچوں اور عزیز و اقارب کو اسرائیل مخالف احتجاجی مظاہروں میں شرکت سے منع کرنے کے لیے دبائو ڈالا جا سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے داخلی سلامتی کے خفیہ ادارے ’’شاباک‘‘ کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے احتجاجی مظاہروں کی روک تھام کے لیے سخت ترین قوانین کا نفاذ کرے اور فلسطینیوں کی روز افزوں بڑھتے احتجاج کے سامنے بند باندھے۔
بیت المقدس کے 77 فی صد باشندے غربت کی لکیر سے نیچے ادھر اسرائیل کے ایک دوسرے عبرانی ہفت روزہ ’’یروشلم‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بیت المقدس میں غربت کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ شہرمیں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے والوں کی تعداد 77 فی صد سے تجاوز کر چکی ہے۔ بیت المقدس میں مقیم 02 لاکھ 38 ہزار 800 افراد میں ایک لاکھ 19 ہزار کم عمر بچے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیت المقدس کو فلسطین کے دوسرے علاقوں بالخصوص غرب اردن سے دیوار فاصل کے ذریعے کاٹ کر رکھ دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں شہر میں غربت اور بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
