• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

بیت المقدس میں اسرائیل مخالف مظاہرے کچلنے کے لیے سخت قوانین کا نفاذ

اتوار 26-10-2014
in فلسطین
0
plf killdemonstration
0
SHARES
0
VIEWS

اسرائیلی حکومت کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مقبوضہ بیت المقدس میں صہیونی ریاست کے مظالم کے خلاف جاری عوامی مظاہروں کو کچلنے کے لیے سخت ترین قوانین کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسرائیل کے ایک عبرانی اخبار ’’ہارٹز‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بیت المقدس میں جاری فلسطینیوں کے پرتشدد مظاہروں کو اسرائیلی حکومت ’’تحریک انتفاضہ‘‘ کی شکل میں دیکھ رہی ہے اور اسی طریقے سے اسے ڈیل کرنے کے لیے سخت ترین قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جا رہا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے پولیس اور فوج سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بیت المقدس میں فلسطینیوں کے روز مرہ کی بنیاد پر جاری مظاہرے روکنے کے لیے کھلی چھٹی دینے کی اجازت دی ہے۔ اس ضمن میں پولیس نے بیت المقدس میں احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے والے بچوں کے والدین کو بھی گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا اور ان پر بھاری جرمانے کیے جائیں گے تاکہ انہیں اپنے بچوں اور عزیز و اقارب کو اسرائیل مخالف احتجاجی مظاہروں میں شرکت سے منع کرنے کے لیے دبائو ڈالا جا سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے داخلی سلامتی کے خفیہ ادارے ’’شاباک‘‘ کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے احتجاجی مظاہروں کی روک تھام کے لیے سخت ترین قوانین کا نفاذ کرے اور فلسطینیوں کی روز افزوں بڑھتے احتجاج کے سامنے بند باندھے۔

بیت المقدس کے 77 فی صد باشندے غربت کی لکیر سے نیچے ادھر اسرائیل کے ایک دوسرے عبرانی ہفت روزہ ’’یروشلم‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بیت المقدس میں غربت کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ شہرمیں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے والوں کی تعداد 77 فی صد سے تجاوز کر چکی ہے۔ بیت المقدس میں مقیم 02 لاکھ 38 ہزار 800 افراد میں ایک لاکھ 19 ہزار کم عمر بچے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیت المقدس کو فلسطین کے دوسرے علاقوں بالخصوص غرب اردن سے دیوار فاصل کے ذریعے کاٹ کر رکھ دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں شہر میں غربت اور بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.