• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

اسرائیل نے سات سال میں القدس کے 06 ہزار فلسطینی باشندوں کی شہریت منسوخ کی

اتوار 26-10-2014
in فلسطین
0
plf 7years
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدش شہر میں مقیم فلسطینی آبادی اسرائیل کو سخت ناگوار ہے اور صہیونی ریاست مخلتف کھوکھلے حیلوں بہانوں سے قبلہ اول کی سرزمین کو فلسطینیوں اور شہریوں سے خالی کرنے کی ایک گھنائونی سازش میں مصروف ہے۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2007ء کے بعد سے یعنی پچھلے سات سال کے دوران کم سے کم چھ ہزار القدسی باشندوں کی فلسطینی شہریت منسوخ کی گئی۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق’’نصرت القدس ومقدسات کی اسلامی و مسیحی سپریم کمیٹی‘‘ کی جانب سےجاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیت المقدس کے اصلی باشندوں کی قومی شناخت ختم کرنے کے گھنائونےاقدامات اس بات کا بین ثبوت ہے کہ صہیونی ریاست  ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بیت المقدس کو عرب اور فلسطینی آبادی سے پاک کرنا چاہتا ہے اور ان کی جگہ یہودیوں کی بالادستی کی کوشش کررہا ہے۔ پچھلے سات برسوں میں جن چھ ہزار فلسطینیوں کی القدس کی شہریت منسوخ کی گئی اس کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بلکہ نام نہاد حیلے سازیاں ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل صرف بیت المقدس ہی سے فلسطینی آبادی کا صفایا نہیں کرنا چاہتا ہے بلکہ سنہ 1967ء کی چھ روزہ عرب ۔ اسرائیل جنگ کے بعد سے غزہ کی پٹی اور مقبوضہ غرب اردن کے ہزاروں فلسطینی باشندوں کی فلسطینی شہریت بھی ختم کی گئی  اور انہیں ملک بدر کیا گیا۔ فلسطینیوں  کو ان کے گھروں اور املاک سے محروم کرنے کے بعد ان کی اراضی یہودی انتہا پسندوں کے حوالے کی گئی یا اس پر یہودی کالونیاں تعمیر کی گئیں ہیں۔
نصرت القدس و مقدسات کمیٹی کے سیکرٹری جنرل حنا عیسیٰ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت دانستہ طور پر فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ اقدامات کر رہی ہے۔ بیت المقدس میں رہائش کے لیے فلسطینیوں پر کڑی شرائط عائد کر کے ان کا گھیرا تنگ کرنے اور انہیں شہر رضاکارانہ طور پر چھوڑنے کے لیے دبائو ڈالا جا رہا ہے۔ بیت المقدس پراپنی بالا دستی کے قیام کے لیے اسرائیلی حکومت نے سنہ 1988ء میں اپنی سپریم کورٹ سے یہ فیصلہ صادر کرایا تھا کہ بیت المقدس میں کسی بھی شخص کی سکونت اسرائیل کی شہری حکومت کے ماتحت ہو گی۔ بیت المقدس میں اسرائیل کی قائم کردہ شہری حکومت اگر کسی مقامی باشندے یا خاندان کو وہاں سے نکالنا چاہے تو وہ ایسا کرنے کی مجاز ہو گی۔ اس نام نہاد فیصلے کے بعد اسرائیلی حکومت نے فلسطینیوں کے بیت المقدس سے اخراج کو ایک معمول بنا رکھا ہے۔

حنا عیسیٰ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے بیت المقدس کے باشندوں کو شہر چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے یہودیوں اور عرب شہریوں میں ٹیکسوں کے معاملے میں بھی امتیاز برتنا شروع کر دیا ہے۔ فلسطینیوں پر بھاری بھاری ٹیکس عاید کیے جاتے ہیں جبکہ یہودی آباد کاروں کو ٹیکسوں میں چھوٹ ہے۔ اسرائیلی قوانین کے تحت بیت المقدس کا کوئی بے روزگار یا کم آمدنی والا فلسطینی بھی ٹیکس سے مستثنیٰ نہیں ہے جبکہ یہودی اس قانون سے مستثنیٰ ہیں۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.