اسرائیلی اخبار ‘ہیوم’ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے موشے یعالون نے کہا کہ ہمیں اس سوچ سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا کہ ہر خراب ہوتا ہوا معاملہ فلسطینی ریاست کے آپشن پر جا کر ختم ہو گا۔ میری بلا سے وہ چاہئے اسے فلسطینی ‘ایمپائر’ کا نام دے دیں۔ میرے بیانات کی روشنی میں یہ سب اسلحے سے پاک علاقے میں فلسطینیوں کو خود اختیاری دینے کا نام ہے۔
"دوسرا فریق یعنی فلسطینی 67ء کی حدود میں ریاست کے قیام کو حتمی سمجھ کر رک نہیں جائیں گے، وہ اسے کھیل کا اختتام نہیں جانیں گے۔ ان کے نزدیک ایسی ریاست کا قیام ان کی جدوجہد کا اہم سنگ میل ہو گا کیونکہ ان کا اصل ہدف تو ‘یہودی ریاست’ کو تباہ کرنا ہے۔” موشے یعالون نے واضح کیا کہ فلسطینی صدر محمود عباس کا کردار امن کے شریک کا نہیں بلکہ تنازع کو سنبھالا دینے والے پارٹنر کا ہے۔
یعالون نے بتایا کہ اسرائیل نے امریکی اور یورپی دباو کے تحت غرب اردن کے علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے پرمٹ دینا وقتی طور پر کم کیا ہے۔
موشے یعالون کے بیانات یورپ اور بالخصوص برطانوی پارلیمنٹ میں فلسطین کے حق میں علامتی تحریک کی منظوری کے تناظر میں سامںے آئیں ہیں، جن سے صہیونی ریاست کے بے چینی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
