اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں انتہا پسند یہودی ربی "یہودا گلیک” کی قیادت میں شرپسندوں کے ایک گروپ نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا۔ کئی گھنٹے کی بے حرمتی کے بعد گلیگ اس کے ساتھ انتہا پسندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یہودیوں کے قبلہ اول میں داخلے کے لیے مراکشی دراوزے کے ساتھ ساتھ ‘باب القطانین’ کو بھی یہودیوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دے تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں یہودی مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر مذہبی رسومات ادا کرسکیں۔
خیال رہے کہ یہودی ربی "یہودا گلیک” مسجد اقصیٰ کی جگہ پر مذعومہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے مطالبے میں پیش پیش ہے اور مراکشی دروازے کو یہودیوں کی آمد و رفت کے لیے کھولنے کا فیصلہ بھی گلیک جیسے انتہاپسندوں کے مطالبے پر کیا گیا تھا۔
ریڈیو رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے ایک دوسرے دروازے کو یہودیوں کی آمد ورفت کے لیے کھولنے کے نیتجے میں اردنی حکومت کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آسکتا ہے۔ معاملہ زیادہ بگڑا تو دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی میدان میں ناراضگی بھی پیدا ہوسکتی ہے۔
خیال رہے کہ مسجد اقصیٰ کی دیکھ بحال کی ذمہ داری ایک معاہدے کے تحت اردن حکومت کو دی گئی تھی۔ یہودیوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی مسلسل بے حرمتی اور اسے یہودیوں اور مسلمانوں میں تقسیم کرنے کی گھناؤنی سازشوں پرعمان حکومت کئی بار شدید احتجاج بھی کرچکی ہے۔
ابھی چند ہفتے قبل اسرائیلی وزیراعظم بجمن نیتن یاھو نے اردنی حکومت کے احتجاج کے بعد مراکشی دروازے کے راستے پر یہودی آباد کاروں کے قبلہ اول میں داخلے کے لیے بنائے گئے لکڑی کے پل کو گرا دیا تھا۔ تاہم پل کے گرائے جانے کے باوجود یہودی آباد کاروں کی اسی راستے سے مسجد اقصی میں آمد و رفت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی حکومت نے عملا مسجد اقصیٰ کو یہودیوں اور مسلمانوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ صبح سے دن دو بجے تک فلسطینی نمازیوں کو قبلہ اول میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس دوران مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کو مذہبی رسومات کی نہ صرف کھلی چھٹی دے دی جاتی ہے بلکہ اسرائیل کے سیکیورٹی ادارے، پولیس، فوج اور خفیہ اداروں کے اہلکار انہیں فول پروف سیکیورٹی فراہم کرتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
