اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل بینی گانٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے عسکری ونگ عزالدین القسام شہید بریگیڈ کے سپریم کمانڈر محمد الضیف کو مارنے کی پوری کوشش کی گئی تھی مگر اسرائیلی فوج انہیں شہید کرنے میں ناکام رہی ہے۔
وہ زندہ اور سلامت ہیں اور کسی خفیہ مقام پر مقیم ہیں۔
اسرائیلی آرمی چیف نے اخبار "مکور ریچون” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں غزہ کی پٹی میں جولائی اور اگست کے دوران اکاون روز تک جاری رہنے والی جنگ اور اسرائیلی فوجی بجٹ کے بارے میں تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ القسام کمانڈر محمد الضیف کو شہید کرنے کے لیے اس کے کئی ممکنہ ٹھکانوں پر بمباری کی گئی تھی تاہم وہ ہر بار بچ نکلنے میں کامیاب ہوتا رہا ہے۔ وہ اب بھی زندہ و سلامت ہے اور کسی خفیہ مقام پر موجود ہے تاہم اسرائیل کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔
خیال رہے کہ 20 اگست کو اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی میں محمد الضیف کی رہائش گاہ پر بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں ان کی اہلیہ اور ایک شیرخوار بچی سمیت ان کے خاندان کے کئی افراد شہید ہو گئے تھے تاہم محمد الضیف گھر پر موجود نہ ہونے کے باعث محفوظ رہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
