مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق منگل کو علی الصباح 140 یہودی آباد کار ایک گروپ کی شکل میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور گھنٹوں قبلہ اول کی بے حرمتی کرتے رہے۔ اس دوران صہیونی فوج نے یہودی انتہا پسندوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کر رکھی تھی اور سیکیورٹی کی آڑ میں فلسطینی شہریوں بالخصوص خواتین کو مسجد اقصیٰ میں داخلے سے روک دیا گیا تھا۔
عینی شاہدین نے پی آئی سی کو بتایا کہ یہودی آباد کاروں کی قیادت ان کے انتہا پسند ربی کر رہے تھے اور انہوں نے قبلہ اول میں داخل ہونے کے بعد یہودیوں کو اس مقدس مقام کی جگہ مزعومہ ہیکل سلیمانی کی یہودی مذہب میں اہمیت پر روشنی ڈالی۔ خیال رہے کہ یہودی قبلہ اول کی جگہ ہیکل سلیمانی کی موجودگی کا دعویٰ کرتے ہیں اور اسی دعوے کی آڑ میں وہ آئے روز مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔
مسجد اقصیٰ کے ایک فلسطینی محافظ نے بتایا کہ یہودی آباد کاروں کے قبلہ اول میں دخلے اور فلسطینی خواتین کے مسجد میں آنے پر پابندی کے بعد یہودی آباد کاروں اور فلسطینی نمازیوں کے درمیان بھی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق مسجد اقصیٰ میں کشیدگی کے بعد بیت المقدس کے دوسرے علاقوں میں بھی اسرائیلی پولیس اور فلسطینی شہریوں کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
