اسرائیل کے جزیرہ نما النقب کی جیل میں پابند سلاسل فلسطینی نوجوان اپنے اوپر ہونے والے وحشیانہ تشدد اور علاج میں صہیونی جیلروں کی کھلی غٍفلت کے باعث بینائی جیسی عظیم نعمت سے محروم ہو گیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق 30 سالہ مرعی حسین قبھا فلسطینی مزاحمت کاروں سے تعلق کے الزام میں 15 سال قید کی سزا کا سامنا کر رہا ہے۔ دوران حراست اسرائیلی درندہ صٍفت تفتیش کاروں کے بہیمانہ تشدد کے دوران اس کی بینائی متاثر ہوئی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مسلسل مطالبات کے علی الرغم صہیونی جیلروں نے متاثرہ نوجوان کو کسی قسم کی طبی سہولت فراہم نہیں کی ہے جس کے بعد اس کی بینائی مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔
ادھر جزیرہ نما النقب میں اسیران کی رہائی کے لیے سرگرم تحریک نے بھی مرعی حسین کی جان بچانے اور اس کا علاج کرانے کے لیے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مدد کا مطالبہ کیا ہے۔ تحریک کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی جیلر دانستہ طور پر زیرحراست فلسطینی شہری کے علاج رو گردانی کر رہے ہیں اگر اس کا فوری چیک اپ نہ کیا گیا تو کل کو اس کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
