فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے الخلیل شہر میں منگل کے روز اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہونے والے نوجوان مروان القواسمہ کی بوڑھی والدہ نے نہایت فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بیٹے نے اللہ کے راستے میں اپنی جان کی قربانی دے کر شہادت کے عظیم الشان مرتبہ پایا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ مروان القواسمہ جب تک زندہ رہا تو تب بھی وہ ایک فرشتہ صفت انسان رہا۔ یوں اس نے سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت کی خواہش پوری کردی۔
خیال رہے کہ منگل کے روز الخلیل میں اسرائیلی فوج کی کارروائی میں دو فلسطینی نوجوان مروان القوسمہ اور عامر بوعیشہ شہید ہوگئے تھے۔ مروانہ قواسمہ کی شہادت کے بعد اس کی بوڑھی والدہ نے مقامی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کسی قسم کے دکھ اور غم کے اظہار کے بجائے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ دنیا کی زندگی فانی ہے اور ہر ذی روح نے یہاں سے کوچ کرنا ہے۔ میرے بیٹے نے شہادت کی موت پائی ہے۔ مجھے اس پر رونے پیٹنے کی نہیں بلکہ خوشی منانے کی ضرورت ہے۔
دونوں فلسطینی شہریوں پر گذشتہ جون میں تین یہودی لڑکوں کے اغواء کے بعد قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا جس کے بعد صہیونی فوج اور سیکیورٹی ادارے مسلسل ان کے تعاقب میں تھے۔
ادھر اسرائیلی اخبار "ہارٹز” نے دعویٰ کیا ہے کہ فوج کے ساتھ جھڑپ میں مارے جانے والے دونوں فلسطینی مزاحمت کار مسلح تھے اور ان کے پاس ایم 16 کلاشنکوفیں اور کئی دستی بم بھی موجود تھے۔ تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
