اسرائیل کی ایک فوج داری عدالت نے مقبوضہ فلسطین کے شہر ام الفحم سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی نوجوان کے خلاف مقدمہ تیار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے عراق اور شام میں سرگرم عسکریت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق و شام ”داعش” میں شمولیت اختیار کی تھی
اور بیرون ملک جنگی تربیت حاصل کرنے کے بعد وطن واپس لوٹ آیا تھا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی عدالت کی جانب سے تیار کی گئی فرد جرم میں احمد عماد شریجی نامی نوجوان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس نے شام میں داعش تک پہنچنے کے لیے فلسطین سے اردن اور وہاں سے ترکی کے راستے داعش تک پہنچنے کا راستہ اختیار کیا۔ شام پہنچ کر اس نے داعش میں شمولیت اختیار کی اور اسی تنظیم کے مراکز میں جنگی تربیت حاصل کی تھی۔
فلسطینی میڈیا کے مطابق اسرائیلی پولیس نے احمد شریجی کو شام میں ایک سال گذارنے کے بعد وطن واپسی پر گذشتہ اپریل کو حراست میں لیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
