فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین سے تعلق رکھنے والے فلسطینی نوجوان محمود عبداللہ عارضہ نے اسرائیلی جیلوں میں اپنی قید کے 18 سال مکمل کر لیے ہیں اور اب وہ اسیری کے 19ویں برس میں داخل ہو گیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم” مرکز اسیران” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسیر محمود عارضہ کی کل اتوار 21 ستمبر کو اسرائیلی قید خانوں میں مسلسل حراست کے 18 سال مکمل ہ وگئے ہیں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ مغربی کنارے کے شہر جنین کے جنوب مغربی قصبے عرابہ کے رہائشی 39 سالہ محمود عبداللہ عارضہ پراسلامی جہاد سے تعلق اور اسرائیلیوں کے خلاف عسکری کارروائیوں کے الزامات کے تحت ایک بارعمر قید اور 15 سال اضافی قید کی سزا کا سامنا ہے۔
دوران حراست عارضہ کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔ اسے مسلسل چھ ماہ تک قید تنہائی میں رکھا گیا لیکن اس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔ یاد رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں عمر قید کے سزا یافتہ فلسطینیوں کی تعداد 477 تک پہنچ گئی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
