مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسی نوعیت کا تازہ مطالبہ نابلس سے تعلق رکھنے والی خاتون سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ ’’منا منصور‘‘ نے بھی کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ کون سی جمہوریت ہے جس میں ایک ملک دوسرے ملک کی پارلیمنٹ کے اسپیکر سمیت 34 منتخب ارکان اسمبلی کو جیلوں میں ڈال دے۔ ان کا اشارہ اسرائیلی فوج کے حالیہ کریک ڈاؤن کی جانب تھا جس میں صہیونی فوج نے مغربی کنارے سے کئی اہم ارکان اسمبلی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر عزیز دویک کو حراست میں لے لیا تھا۔
نابلس میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے منا منصور نے کہا کہ اسرائیلی فوج فلسطینی پارلیمنٹ کے ارکان کو بھی نہیں معاف کرتی۔ ایسے میں صدر محمود عباس کو اسرائیل کے ساتھ کھل کر سیکیورٹی تعاون سے انکار کر دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست سنہ 2006ء کے بعد سے فلسطینی پارلیمنٹ کو انتقام کا نشانہ بنائے ہوئے ہے اور اسی سال سے فلسطینی اتھارٹی نے صہیونی ریاست کے ساتھ فوجی تعاون بھی شروع کر رکھا ہے۔ دنیا کے کسی کونے میں اس نوعیت کے ظلم کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ سنہ 2006ء کے بعد سے اب تک دو مرتبہ فلسطینی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر عزیز دویک کو گرفتار کیا گیا ہے۔
