مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی میں وزارت زراعت کے ڈائریکٹر پلاننگ انجینیر نبیل ابو شمالہ نے مقامی این جی اوز کے نمائندگان کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ غزہ میں صہیونی فوج کی بمباری سے زراعت کے شعبے کو 350 ملین ڈالر براہ است اور 200 ملین ڈالر بالواسطہ طور پر نقصان پہنچا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں نبیل ابو شمالہ کا کہنا تھا کہ صہیونی فوج نے بمباری کرکے غزہ کی نصف زرعی اراضی جو کہ ایک لاکھ 40 ہزار دونم بنتی ہے کو تباہ کیا۔ اس کے علاوہ بمباری کے نتیجے میں فلسطینی کسان اور کاشت کار گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔ قریبا دو ماہ تک وہ اپنی فصلوں کی دیکھ بحال نہیں کرسکے ہیں جس کے نتیجے میں فصلات تباہ ہوگئیں اور یوں بالواسطہ طور پر نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں لائیو اسٹاک کے شعبے میں 70 اعشاریہ 08 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔ پانی کے شعبے میں 68 ملین ڈالر، ماہی گیری کو 10 ملین ڈالر اور غلہ جات کو 11 لاکھ 60 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔
صہیونی فوج نے دانستہ بمباری میں پانی کی فراہمی کے لیے کام کرنے والی 70 اسکیموں کو تباہ کیا جبکہ 34 ہزار 500 ایکڑ رقبے پر مشرقی غزہ کی پٹی میں کھڑی فصلوں کو تباہ کردیا گیا۔
