مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی بلدیہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ مشرقی بیت المقدس میں بائیس سو مکانات کی تعمیر کا فیصلہ بہت پہلے کر لیا گیا تھا۔ یہ مکانات یہودی کالونیوں کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں، اس لیے جلد ہی ان کی تعمیر کا کام شروع کردیا جائے گا۔
اسرائیل کے بیت المقدس میں میئر نیر برکات کا کہنا ہے کہ منصوبے کا مقصد بیت المقدس کی وحدت اور اس کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی بلدیاتی حکومت کے مشیر بیبی الالو نے منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر آٹھ سال قبل کام شروع کیا جانا تھا۔ اس وقت یہ کام کر لیا جاتا تو بہتر تھا لیکن اب حالات بدل رہے ہیں اور مکانات کی تعمیر سے مزید یہودی توسیع کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہوسکتی ہیں۔
خیال رہے کہ مشرقی بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کی تعداد 02 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ وہاں پر فلسطینی آبادی کی تعداد 02 لاکھ 90 ہزار ہے۔
