اسرائیلی جیلوں میں ڈالے گئے ہزاروں افراد میں کم جہاں بڑی عمر کے افراد شامل ہیں وہیں 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو بھی غیرقانونی طو رپر پابند سلاسل کیا گیا ہے۔
فلسطینی وزارت اسیران کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں 250 فلسطینی بچے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ حراستی مراکز میں انہیں جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تشدد جیسے ہتھکنڈوں کا سامنا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق وزارت اسیران کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی خفیہ ادارے، فوج اور پولیس ملی بھگت کے تحت کم سن فلسطینیوں کے بنیادی حقوق پامال کر رہے ہیں سیکڑوں فلسطینی بچوں کو گرفتاری کے بعد ان کے عزیزو اقارب سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی اور ان کے ساتھ جنگی مجرموں کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی جیلروں کا کم سن فلسطینیوں کے ساتھ توہین آمیز اور غیراخلاقی رویہ اپنی جگہ لیکن جیلر انہیں وحشیانہ جسمانی تشدد کا بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ بچوں کے ہاتھ پائوں باندھ کر انہیں فرش پر پھینک دیا جاتا ہے۔ کرسی پر بٹھانے کے بعد ان پر بھاری اور بدبودار بیگ رکھ دیے جاتے ہیں۔ رات اور دن کے اوقات میں انہیں کچھ دیر کے لیے بھی سونے نہیں دیا جاتا، کئی بچوں کو قید تنہائی میں بھی ڈالا جاتا ہے، تشدد کے لیے دیگرحربے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ تفتیش کے دوران ان کے جسم کے کپڑے تک اتار دیے جاتے ہیں۔ تفتیش کار ذہنی اور نفسیاتی دبائو ڈالنے کے لیے انہیں کئی قسم کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ مثلا انہیں دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر انہوں نے تفتیش کاروں سے تعاون نہیں کیا تو ان کے والدین اور دیگر بہن بھائیوں کو بھی جیلوں میں ڈال دیا جائے گا۔ ان کا مکان بلڈوز کردیا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔
ادھر غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارت اسیران کے عہدیدار رافت حمدونہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں کم عمر فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے مظالم دراصل عالمی انسانی حقوق کے اداروں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسرائیل جس دیدہ دلیری کے ساتھ اجتماعی طور پر فلسطینی بچوں کو جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اسے عالمی سطح پر اٹھایا جانا چاہیے۔ رافت حمدونہ نے انسانی حقوق بالخصوص بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں کم عمر فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا سختی سے نوٹس لیں۔
