مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابو زھری کا کہنا ہے کہ صہیونی وزیراعظم کو یہ اندازہ ہے کہ غزہ کی پٹی میں اس کے فوجیوں کی زندگی مستقل خطرے میں ہے۔ فوجیوں کی جانوں کو خطرات لاحق تھے اور وہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاتھوں یرغمال بنائے جاسکتے تھے۔ اسی خوف کی بناء پر نیتن یاھو نے غزہ کی پٹی سے اپنی فوجیوں کی واپسی ہی میں عافیت سمجھی ہے۔ صہیونی فوج کی واپسی کا اعلان ہی دراصل دشمن کا اعتراف شکست اور فلسطینی تحریک مزاحمت کی فتح وکامرانی کی علامت ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اپنی فوج کی غزہ کی پٹی کے محاذ سے واپس بلائے جانے کے جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر فوج کو غزہ کے اندر چھوڑا جاتا تو ان کی جانوں کو خطرات لاحق تھے۔ فلسطینی کسی بھی وقت فوجیوں کو اغواء یا ان پر مہلک قاتلانہ حملے کرسکتے تھے۔
