اسرائیل کی ایک فو جداری عدالت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے رہ نما اور سابق وزیر و رکن قومی اسمبلی انجینیر وصفی قبہا کو 10 ماہ قید کا حکم دیا ہے۔ انہیں تین ماہ قبل اس وقت جنین شہر سے حراست میں لیا گیا تھا جب الخلیل میں وسط جون کو تین یہودی لڑکے اچانک لاپتا ہو گئے تھے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق گرفتاری کے بعد تین ماہ تک قبہا کو انتظامی حراست میں رکھا گیا تھا تاہم حال ہی میں انہیں باضابطہ جیل بھیجنے کے لیے ان پر اسرائیل مخالف احتجاجی مظاہرے منظم کرنے اور فلسطینی اسیران کے حقوق کے لیے ریلیاں نکالنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اسی الزام کے تحت صہیونی عدالت نے انہیں دس ماہ قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔
خیال رہے کہ سابق فلسطینی وزیر برائے امور اسیران کو 15 جون کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس سے قبل 28 مئی کو ان کے اکلوتے بیٹے اسامہ قبہا کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ اسامہ اس وقت مقبوضہ فلسطین میں قائم "مجد” جیل میں قید ہے۔
وصفی قبہاء کو پہلی مرتبہ گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ اس سے قبل انہیں اسرائیلی فوج 09 بار گرفتار کر چکی ہے
وہ کم سے کم 13 سال اسرائیلی جیلوں میں قید رہے ہیں۔ بئرسبع کی جیل میں انہوں نے 11 سال جیل کاٹی، جہاں انہیں شوگر اور بلڈ پریشر جیسے امراض بھی لاحق ہوئے ہیں۔ ان کے ایک بھائی امجد قبہا کو 19 سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔ اب تک وہ 11 سال قید پوری کر چکے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق گرفتاری کے بعد تین ماہ تک قبہا کو انتظامی حراست میں رکھا گیا تھا تاہم حال ہی میں انہیں باضابطہ جیل بھیجنے کے لیے ان پر اسرائیل مخالف احتجاجی مظاہرے منظم کرنے اور فلسطینی اسیران کے حقوق کے لیے ریلیاں نکالنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اسی الزام کے تحت صہیونی عدالت نے انہیں دس ماہ قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔
خیال رہے کہ سابق فلسطینی وزیر برائے امور اسیران کو 15 جون کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس سے قبل 28 مئی کو ان کے اکلوتے بیٹے اسامہ قبہا کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ اسامہ اس وقت مقبوضہ فلسطین میں قائم "مجد” جیل میں قید ہے۔
وصفی قبہاء کو پہلی مرتبہ گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ اس سے قبل انہیں اسرائیلی فوج 09 بار گرفتار کر چکی ہے
وہ کم سے کم 13 سال اسرائیلی جیلوں میں قید رہے ہیں۔ بئرسبع کی جیل میں انہوں نے 11 سال جیل کاٹی، جہاں انہیں شوگر اور بلڈ پریشر جیسے امراض بھی لاحق ہوئے ہیں۔ ان کے ایک بھائی امجد قبہا کو 19 سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔ اب تک وہ 11 سال قید پوری کر چکے ہیں۔
