فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پراسرائیلی فوج کی مسلط کردہ جنگ کے ردعمل میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں کے باعث یہودی کالونیوں میں تعلیمی سرگرمیاں مسلسل معطل ہیں اور نئے تعلیمی سال کا آغاز بھی نہیں ہو سکا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق جنوبی فلسطین کے شہر عسقلان کے یہودی میئرایتمار شمعون نے اسرائیلی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی سال کے آغاز میں ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے اور وہ ابھی تک اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کر سکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی سے داغے جانے والے راکٹوں سے اسکول اور سرکاری دفاتر غیرمحفوظ ہیں اور وہ موجودہ حالات میں بچوں کو اسکول بلانے کا فیصلہ نہیں کر
سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عسقلان میں اسرائیل کے تعلیمی ادارےغزہ کی پٹی سے 20 کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہیں جس کے باعث راکٹ حملوں کے خوف کی تلوار ہر وقت ہمارے سروں پر لٹکتی رہتی ہے۔
