فلسطین کے سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں قائم مذہبی سیاسی جماعت اسلامی تحریک کے سربراہ اور بزرگ فلسطینی لیڈر الشیخ رائد صلاح نے حالیہ اسرائیلی جارحیت کے جواب میں غزہ کی پٹی کے عوام کی جانب سے جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرنے پر
مجاھدین اور پوری قوم کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مظلوم و مقہور اور زخمی ومحصور غزہ کے عوام نے اسرائیلی ریاست کے تکبر اور طاقت کے گھمنڈ کو خاک میں ملا دیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق الشیخ صلاح نے مقبوضہ فلسطین میں اہالیان غزہ کے ساتھ یکجہتی کے لیے نکالی گئی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج نے ایک ماہ تک نہتے شہریوں کا قتل عام کیا۔ اس کے جواب میں غزہ کے آٹھ سال سے محصور عوام نے مقدور بھر دفاعی صلاحیت سے دشمن پر جوابی وار کیے۔ آج اسرائیل اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔ اسرائیلی میڈیا، حکومت اور فوج سب اپنی شکست کے نوحے پڑھ رہے ہیں۔
الشیخ رائد صلاح نے فوری طور پر غزہ کی پٹی کی معاشی ناکہ بندی کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے فلسطینی مجاھدین کے غزہ میں بندرگاہ، ہوائی اڈے اور دیگر مطالبات کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق میں یہ ادنیٰ درجے کے مطالبات ہیں۔ ان سے کسی صورت میں صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ہے۔
الشیخ رائد صلاح کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں بندرگاہ اور ہوائی اڈے کے مطالبات شہداء نے اپنا خون دے کر اختیار کیے ہیں۔ فلسطینی عوام کے پاس صرف دو آپشن ہیں یا وہ آزاد اور خوش حال زندگی گذاریں گے ورنہ دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت کو ترجیح دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں مجاھدین نے جس جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرکے دشمن کو زخم چاٹنے پر مجبور کیا ہے اس سے الشیخ احمد یاسین شہید، یاسرعرفات، فتحی الشقاقی اور ابو علی مصطفیٰ کی ارواح کو بھی سکون ملا ہوگا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
