اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے مشرقی علاقے الشجاعیہ میں چند روز قبل کیے گئے وحشیانہ حملے میں غزہ کے مجاھدین کی جرات و بہادری اور ان کی صلابت کا اعتراف کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کی
الشجاعیہ میں فوج سنگین مشکلات سے دوچار ہوگئی تھی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کی کمانڈو یونٹ "گولانی” کے سربراہ میجر جنرل غسان علیان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی تمام فوجی سروس میں کبھی فوج اور خود کو اتنی مشکل میں پھنسے نہیں دیکھا ہے۔
یہاں یہ امر واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کی کمانڈو یونٹ "گولانی” فوج کی ان چیدہ چیدہ فوجی یونٹوں میں سے ایک ہے جو مخالفین پر حملوں کے حوالے سے نہایت سخت جان واقع ہوئی ہے۔ غزہ کی پٹی میں فوج کی زمینی کارروائی میں اس یونٹ کا اہم ترین کردار سمجھا جاتا ہے۔ تمام تر اسلحہ اور مادی وسائل سے لیس ہونے کے ساتھ ساتھ کمانڈو یونٹ کے اہلکاروں کو فضائیہ کی بھی بھرپور معاونت حاصل رہی ہے۔ اس کے باوجود الشجاعیہ سے اسرائیلی فوج لاشیں چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل غسان نے کہا کہ اس سے قبل سنہ 2006ء میں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کو لبنانی علاقے جبیل میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن الشجاعیہ کا معرکہ اس سے بھی زیادہ سخت تھا۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی اعلیٰ قیادت نے "گولانی” کمانڈو یونٹ کو فوجی کارروائی کے پہلے مرحلے کے لیے منتخب کیا تھا۔ ہم جب الشجاعیہ میں داخل ہوئے تو اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے جنگجوؤں نے جس بہادری اور جاں فشانی کے ساتھ ہمارا مقابلہ کیا وہ ہمارے لیے ناقابل یقین تھا۔
ایک دوسرے فوجی افسر نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں الشجاعیہ میں جب مزاحمت کاروں کے سخت جوابی حملے ہونے لگے تو ہم نے دو مرتبہ زمین آپریشن میں پیش رفت ملتوی کی۔ تیسری مرتبہ ہمیں اعلیٰ قیادت کی جانب سے بہ اصرار حکم دیا گیا کہ ہم اپنی پوری طاقت کو مجتمع کرکے الشجاعیہ میں گھسنے کی کوشش کریں۔ جب ہم نے ایسا ہی کیا تو ہمیں بے پناہ جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ یہیں سے ہمارا ایک ساتھی ارون شاؤل زخمی ہونے کے بعد لاپتا ہوا اور فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسے یرغمال بنانے کا دعویٰ کر رکھا ہے۔
اسرائیلی فوجی افسر کا کہنا تھا کہ الشجاعیہ میں فلسطینی مزاحمت کار ہماری فوج کے بالکل آمنے سامنے آگئے۔ فوجیوں نے جب دشمن کو نہایت قریب سے دیکھا تو بھوکھلا گئے اور فورا گولہ باری شروع کردی۔
اسرائیل کے عبرانی اخبار "معاریف” نے بھی الشجاعیہ معرکے میں شریک ایک فوجی کے تاثرات قلم بند کیے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ الشجاعیہ میں زمینی کارروائی کی پہلی رات جان لیوا ثابت ہوئی۔ ہمیں توقع تھی کہ زمینی کارروائی آسان رہے گی اور جلد اپنے متوقع اہداف حاصل کرلیں گے لیکن ہم جیسے جیسے قدم اٹھاتے ہمیں فلسطینی مزاحمت کاروں کے اتنے ہی سخت جواب کا سامنا کرنا پڑتا۔ ہمیں مجبورا فلسطینی آبادی میں ٹینک داخل کرکے بمباری کرنا پڑی جس کے نتیجے میں عام شہری بھی مارے گئے۔ اس نے اعتراف کیا کہ اگر فضائیہ ان کی حفاظت نہ کرتی اور جنگی طیارے بمباری نہ کر رہے ہوتے تو الشجاعیہ سے فوجیوں کی واپسی کا کوئی امکان نہیں تھا کیونکہ سیکڑوں فلسطینی مزاحمت کاروں اور حماس کے جنگجو عناصر نے میں گھیرے میں لے لیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
