مرکز اطلاعات فلسطین سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر الطباع نے کہا کہ سب سے پہلے غزہ بندرگاہ کے حوالے سے باضابطہ فلسطینی صدارتی فرمان 30 اپریل 2000ء میں جاری ہوا۔ اسی فرمان کے تحت غزہ کی پٹی کے ساحل پر بندرگاہ کی جگہ کا تعین کیا گیا۔ جگہ کا تعین کر لینے کے بعد سابق فلسطینی لیڈر مرحوم یاسر عرفات اور سابق فرانسیسی صدر جاک شیراک نے مشترکہ طور پر اس کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا گیا تھا۔
ایک سوال کے جواب میں فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں بندرگاہ کا منصوبہ سیاسی اور اقتصادی میدانوں میں ایک غیر معمولی کامیابی کا حامل ہے۔ بندرگاہ کی تعمیر سے فلسطینیوں کے سمندری حقوق کے حصول میں مدد ملے گی۔ اس کے نتیجے میں غزہ کی تعمیرو ترقی میں بہتری آئے گی اور مجموعی طور پر فلسطینی معیشت کو بال و پر لگنے لگیں گے۔ غزہ کی پٹی کی عالمی برادری کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کا راستہ کھلے گا اور عالمی تجارت کے ساتھ غزہ کی درآمد و برآمدات اور مقامی مصنوعات کی عالمی مارکیٹ تک رسائی کی راہیں ہموار ہوں گی۔ غزہ کی زراعت اور ماہی گیری میں بہتری آئے گی۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور نئے نئے شعبوں میں کام کے مواقع کھلیں گے۔ یوں معاشی طورپر غزہ کی پٹی کے دن بدلنے لگیں گے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ بندرگاہ کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل کی اس میں کسی قسم کی مداخلت نہ رہے۔ اگر بری راستوں کی ناکہ بندی کی طرح اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی بندرگاہ کو بھی اپنی گرفت میں رکھنے کی کوشش کی تو فلسطینی عوام کو اس خاطر خواہ کا فائدہ نہیں ہوگا۔
