فلسطینی وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور یوسف ادیس نے کہا ہے "اسرائیلی حکومت غزہ پر جاری جارحیت پر دنیا کی توجہ مبذول ہونے کی وجہ سے مسجد اقصٰی کو تقسیم کرنے کی کوششوں میں تیزی لے آئی ہیں۔”
یوسف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسجد اقصٰی میں مسلمانوں کا داخلہ بند کرنے اور یہودی ربیوں کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات مسلمانوں کے خلاف مذہبی جرائم میں شمار ہوتے ہیں اور مذہبی آزادی کے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
اسرائیلی فضائی حملوں نے غزہ کی پٹی پر بمباری کے نتیجے میں 41 مساجد پوری طور پر تباہ کردی ہیں جبکہ 120 مساجد کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔
وزیر اوقاف نے مطالبہ کیا کہ اسلامی تعاون تنظیم [او آئی سی] فوری طور پر اسرائیلی جرائے کو روکنے اور غزہ اور مغربی کنارے میں عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے خاتمے کے لئے کام کرے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
