قطر کے ممتاز عالم دین اور انیٹرنیشل علماء کونسل کے چیئرمین علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے فلسطینی عوام کی آزادی کے لیے مسلح مزاحمت کی حمایت اور فلسطینیوں کی مدد پورے عالم اسلام کے لیے واجب قرار دی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی اس وقت ظلم کا شکار ہیں۔ تمام عرب مسلمان ممالک پر واجب ہے کہ وہ طالم کے خلاف جہاد میں فلسطینی عوام کے ہاتھ مضبوط کریں۔ انہیں اسلحہ دیا جائے،خوراک او ادویات فراہم کی جائیں تاکہ وہ دشمن کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھ سکیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مائیکرون بلاگنگ ویب سائیٹ”ٹیوٹر”اپنے ایک بیان میں علامہ یوسف القرضاوی کا کہنا ہے کہ مسلمان چاہے مختلف ملکوں میں بٹے ہوئے ہیں مگر وہ خود کو فلسطینیوں کی مسلح تحریک آزادی کی حمایت سے الگ نہیں سمجھ سکتے۔ فلسطینیوں کی حمایت ایک ایک مسلمان پر فرض اور قرض ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام عرب اور مسلمان ممالک فلسطینیوں کی ہرطرح سے مدد کریں۔ انہیں صہیونی دشمن کے مقابلے کے لیے اسلحہ، خوراک اور ادویات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے علماء مسلمانوں کو فلسطینیوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلائیں۔
علامہ یوسف القرضاوی نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کے دوران عرب اور مسلمان ممالک کے منفی کردار کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اب تو عرب اور مسلمان ممالک کا موقف بھی مغرب کے ظالمانہ موقف کے سے ہم آہنگ ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے مسلمان اور عرب ممالک کے کردار کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو ملک حماس کو دہشت گرد تسلیم کرتے ہیں وہ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم میں اس دشمن کا ساتھ دے رہے ہیں۔
قبل ازیں علامہ یوسف القرضاوی نے الجزیرہ ٹی وی کےایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فلسطینیوں کی مسلح جدوجہد کی حمایت کرتے ہوئے عالم اسلام سے فلسطینی مجاھدین کی مدد کا مطالبہ کیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
