فلسطین میں انسانی حقوق کے اداروں نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ اسرائیل کی بدنام زمانہ جیل "ھشارون” میں اب بھی سترہ فلسطین خواتین قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہی ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم "مرکز احرار” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہےکہ بشریٰ الطویل آخری فلسطینی خاتون اسیرہ ہیں جنہیں صہیونی جیل سے رہا کیا گیا۔
انسانی حقوق کے ادارے کے ڈائریکٹر فواد الخفش نے بتایا کہ نو خواتین منیٰ قعدان، رسمیہ بلاونہ، فلسطین نجم، تحریر القنیٰ، نھیل ابو عیشہ، احلام عیسیٰ، شیرین العیساوی، فداء الشیبانی اور سماھر عثمان کو انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے۔ بشریٰ الطویل بھی انہی کے ساتھ رہی ہیں جنہیں حال ہی میں جیل سے رہا کیا گیا تھا۔
سزایافتہ خواتین میں دنیا واکد، لینا الجربونی، انعام الحسنات، نوال السعدی، آلا ابو زیتون، وئام عصیدہ اور ریم حمارشہ شامل ہیں۔ ڈاکٹر الخفش کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل ان فلسطینی خواتین کو ادنٰی درجے کے انسانی حقوق بھی میسر نہیں ہیں۔ کئی خواتین اسیرات سے ان کے اہل خانہ کو ملاقات تک کی اجازت حاصل نہیں ہے۔
