مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق کل جمعہ کے روز فلسطینی لڑکی کے بہیمانہ قتل کے خلاف فلسطین کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مساجد میں علماء اور آئمہ نے ابو خضیر کی شہادت اور اسرائیل کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کیں۔
عینی شاہدین کے مطابق گرمی اور روزے کے باجود ہزاروں کی تعداد میں شہری نماز جنازہ میں شریک ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ نماز جنازہ کے طویل جلوس میں شرکاء نے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم اور اسرائیل کے خلاف مذمتی نعروں پر مشتمل بینرز اور کتبے بھی اٹھا رکھے تھے۔ جنازے کے جلوس میں بھی اسرائیلی ریاستی دہشت گردی اور ابو خضیر کی شہادت پر صہیونی ریاست کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔
مقامی فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے بدھ کے روز انتہا پسندوں کے ظالمانہ حملے میں شہید ہونے والے ابو خضیر کی میت قبضے میں لے لی تھی جبکہ اس کے اہل خانہ نے کل جمعہ کو شہید کی نماز جنازہ کا اہتمام کیا تھا۔ جمعہ کی دوپہر کو شہید ابو خضیر کی میت اس کے ورثاء کے حوالے کی گئی۔ شہید کی میت اس کے گھر پہنچتے ہی فلسطینی جوق در جوق شعفاط مہاجر کیمپ کی طرف چل دیے۔ عینی شاہدین کے مطابق مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے فلسطینی بھی قافلوں کی شکل میں بیت المقدس پہنچے جہاں انہوں نے شہید کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
ادھر بیت المقدس میں شعفاط کالونی کے قریب اسرائیلی فوج اور مشتعل فلسطینی مظاہرین کے درمیان تصادم میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب اسرائیلی فوجیوں نے نوجوان فلسطینی شہریوں کو شہید ابو خضیر کی نماز جنازہ میں شرکت سے روکا۔ اس پر مشتعل فلسطینیوں نے صہیونی فوجیوں پر سنگ باری کی جس کے جواب میں قابض فوج نے ان پر لاٹھی چارج کیا اور اشک آور گیس کے گولے برسائے، جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی زخمی ہوگئے۔
ادھرمقبوضہ مغربی کنارے میں رام اللہ، بعلین، نعلین، الخلیل، نابلس، طولکرم اور کئی دوسرے مقامات پر ابو خضیر کی ظالمانہ شہادت پر اسرائیل کے خلاف احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگاروں کے مطابق مغربی کنارے کے کئی شہروں، بیت المقدس اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ شہروں میں اسرائیل کے خلاف نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد مذمتی ریلیاں نکالی گئیں جن میں اسرائیل کے خلاف سخت نفرت کا اظہار کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق فلسطین کے مختلف شہروں میں اسرائیل مخالف ریلیوں میں صہیونی فوج اور شہریوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
