مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق القسام بریگیڈ کے ترجمان ابوعبیدہ نے غزہ کی پٹی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں اسرائیل کی جانب سے تین یہودی لڑکوں کے قتل کی پاداش میں فلسطینیوں کو سبق سکھانے کی دھمکیوں کے جواب میں کہا کہ "طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا، وقت اب واپس نہیں جائے گا۔ وہ وقت گذرگیا جب اسرائیل جنگ کا اغاز کرکے اسے خود ہی ختم کرتا تھا۔ دشمن کے پاس جنگ شروع کرنے کا اختیار تو ہے لیکن وہ اسے ختم نہیں کر سکتا۔ اسرائیل کو اندازہ نہیں کہ وہ جس جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے وہ اس کے فوجیوں اور خود صہیونی ریاست کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ القسام بریگیڈ کے پاس دشمن کو حیران کر دینے والے آپشنز موجود ہیں لیکن انہیں وقت سے پہلے بے نقاب نہیں کیا جائے گا۔ حماس اور القسام بریگیڈ اسرائیلی فوج کی جانب سےغزہ کی پٹی پر کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ اسرائیل مسلسل دھمکیاں دے کر فلسطینیوں کے اعصاب کا اندازہ لگا رہا ہے۔ ہم اعصابی اور نفسیاتی طور پر پہلے ہی جنگ جیت چکے ہیں۔ گیدڑ بھبکیاں ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی ہیں۔
ابو عبیدہ نے استفسار کیا کہ کیا اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر فوج کشی کرے گا تو شہر میں موجود ہزاروں جانثار چوڑیاں پہن کر بیٹھے رہیں گے۔ اسرائیل فلسطینی عوام کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی انتقامی کارروائیاں اس کا بین ثبوت ہیں لیکن صہیونی دشمن کو اپنے کیے کی سزا بھگتا ہوگی اور وہ فلسطینی عوام کو ٹکڑوں میں بانٹنے کی سازش میں کسی صورت میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔
القسام بریگیڈ نے تمام مزاحمتی گروپوں سے اپیل کی کہ وہ بزدل دشمن کی دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے اپنی دفاعی قوت مجتع کریں۔ انہوں نے کہا کہ حماس اسرائیلی دھمکیوں کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہر سطح پر جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ مہینے کے وسط میں تین یہودی آباد کاروں کے مغربی کنارے سے پراسرار گم شدگی اور بعدا زاں ان کے قتل کے بعد اسرائیل نے دھمکی دی ہے کہ وہ انتقامی کارروائی کے طور پر غزہ کی پٹی میں فوج کشی کرے گا۔ اسرائیلی فوج کی دھمکیوں کے جواب میں حماس کے عسکری ونگ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ جنگ سے باز رہے ورنہ غزہ کی پٹی دشمن فوج کا قبرستان ثابت ہو گی۔
