فلسطین میں تین ہفتے تک لاپتا رہنے کے بعد تین یہودی لڑکوں کو مردہ حالت میں پائے جانے کے بعد اسرائیل میں فلسطینیوں کے خلاف سخت
غم و غصہ کی فضاء پائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب تین یہودی لڑکوں کے مبینہ اغواء کے بعد قتل پر فلسطینیوں کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے اسرائیل کابینہ کا طویل اجلاس ہوا تاہم حکومت کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی ہے۔
اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق اس خبر کی تیاری تک صہیونی سیکیورٹی کمیٹی اور کابینہ کا مشترکہ اجلاس جاری تھا۔ اجلاس پچھلے بارہ گھنٹے سے مسلسل جاری رہا لیکن اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ اجلاس میں غزہ کی پٹی سے اسرائیلی تنصیبات پر ہونے والے راکٹ حملوں اور ان کا جواب دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز اسرائیلی پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتہا پسند وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے الزام عائد کیا تھا کہ الخلیل سے تیرہ جون کو غائب ہونے والے تینوں لڑکوں کو اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے یرغمال بنایا تھا۔ انہوں نے غزہ اور مغربی کنارے میں حماس کے ٹھکانوں پر حملوں کی بھی تجویز دی اور کہا کہ وہ غزہ کی پٹی سے راکٹ حملوں کو طاقت کے ذریعے روکیں گے۔
پارلیمنٹ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے تین یہودی آباد کاروں کو اغواء کر کے انہیں قتل کرنے والوں اور اس میں معاونت کرنے والوں کے تعاقب میں ہیں۔ جلد ہی قاتلوں کو تلاش کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تین یہودی آباد کاروں کے بہیمانہ قتل میں جو بھی ملوث ہوا اسے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور یہودیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
نیتن یاھو نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں اپنا مضبوط نیٹ ورک رکھنے والی جماعت "حماس” یہودیوں کے اغواء اور ان کے قتل پر اکساتی رہی ہے۔ یہی تنظیم حالیہ دنوں کے دوران یہودی کالونیوں پر راکٹ حملوں میں بھی ملوث ہے۔ ہماری مسلح افواج جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سخت جواب دیں گی۔
ایک سوال کے جواب میں نیتن یاھو نے کہا کہ ضرورت پڑی تو سیکیورٹی اداروں کو غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائی کی اجازت دی جائے گی۔
درایں اثناء اسرائیلی وزیرِ دفاع موشے یعلون نے تین یہودی آباد کاروں کو مردہ حالت میں تلاش کرنے پر کامیابی پر فوج کی تعریف کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے دن رات ایک کر کے تین یہودی لڑکوں کی میتیں حاصل کر لیں۔ یہ ان کی بڑی کامیابی ہے۔ مسٹر یعلون کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں موجود حماس اسرائیل کے لیے خطرہ ہے اور یہودی کالونیوں پر غزہ سے ہونے والے راکٹ حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
