فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد نے کہا ہے کہ صہیونی ریاست طاقت کے ذریعے فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق اور مطالبات سے دستبردار نہیں
کرسکتا ہے۔
فلسطینی اپنے عزم اور مسلح جدو جہد کے ذریعے صہیونی ریاست کے منظم جنگی جرائم کا مقابلہ جاری رکھیں گے اور قابض دشمن کو اپنے جرائم کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسلامی جہاد کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی جنگی مجرموں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ صہیونی ریاست، اس کی فوج اور خفیہ ادارے تین لاپتا یہودی آباد کاروں کو زندہ ڈھونڈنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ اپنی اس ناکامی کا نزلہ فلسطینی عوام پر گرانے کی ناکام کوشش کرکے نہتے فلسطینیوں کے خلاف ایک نئی جنگ کا جواز تراشا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی ریاست کی جانب سے تین ہفتوں تک یہودی آباد کاروں کی تلاش کی آڑ میں مغربی کنارے اور بیت المقدس میں لاکھوں فلسطینی باشندوں کی زندگی اجیرن بنا کر رکھی گئی۔ جارحیت کا سلسلہ غزہ کی پٹی تک وسیع کردیا گیا اور بمباری کرکے کئی نہتے فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اسرائیل دلیل کی زبان میں بات کرنے کے بجائے صرف طاقت کی زبان جانتا ہے۔
اسلامی جہاد کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر فوج کشی کی دھمکیاں سنجیدہ ہیں اور فلسطینی مزاحمت کار صہیونی فوج کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ غزہ کی پٹی پر حملہ کیا گیا تو شہر کو دشمن فوج کا قبرستان بنا دیں گے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
