• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

اسرائیل کا مشرقی القدس پر گرفت مضبوط بنانے کا منصوبہ

پیر 30-06-2014
in فلسطین
0
plf plan
0
SHARES
0
VIEWS

اسرائیلی کابینہ نے مقبوضہ مشرقی القدس کی سماجی اقتصادی ترقی کے لیے نو کروڑ ڈالرز مالیت کے منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے تحت اس شہر کی سکیورٹی میں اضافہ کیا جائے گا اور پولیس کی نفری بڑھا دی جائے گی۔

 

مقبوضہ بیت المقدس کی بلدیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کا بڑا مقصد تشدد کا خاتمہ ہے اور اس کے لیے روزگار کی فراہمی، تعلیم اور سماجی بہبود اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے مربوط کوششیں کی جائیں گی۔

اس منظور شدہ منصوبے کے تحت مقبوضہ القدس میں پولیس اہلکاروں کی تعداد کے علاوہ سکیورٹی کیمروں کی تعداد بھی بڑھائی جائے گی۔ صہیونی پولیس کے ایک جائزے کے مطابق اس سے تشدد کے واقعات میں پچاس فی صد تک کمی واقع ہو گی۔

اسرائیل کے تحت میونسپلٹی تشدد کے جن واقعات میں کمی لانے کی خواہاں ہے، اس سے مراد قابض صہیونی حکام کی چیرہ دستیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کو روکنا ہے اور ان کی نقل وحرکت کو محدود کرنا ہے۔نہتے فلسطینی جدید ہتھیاروں سے مسلح اسرائیلی فورسز کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ پتھراؤ ہی کر سکتے ہیں۔

اسرائیلی پولیس کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں مارچ اور اپریل میں سکیورٹی فورسز اور گاڑیوں پر پتھراؤ کے تین سو نوے واقعات پیش آئے تھے۔ اس کے علاوہ درجنوں گاڑیوں کو چرا لیا گیا یا ان کی توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔

میونسپلٹی کے فراہم کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ مشرقی القدس میں تین لاکھ چھے ہزار فلسطینی رہ رہے ہیں لیکن ان کا سول درجہ سکونتی ہے، شہری نہیں ہے۔ وہ شہر کی کل آبادی کا اڑتیس فی صد ہیں۔ ان قریباً تمام فلسطینیوں کو مستقل سکونتی درجہ حاصل ہے یعنی ان کے پاس اسرائیلی شناختی کارڈز ہیں لیکن پاسپورٹ نہیں ہیں۔

القدس کے مکین فلسطینی بلدیاتی انتخابات میں تو ووٹ ڈال سکتے ہیں لیکن اسرائیل کے قومی انتخابات میں ووٹ دینے کے حق دار نہیں ہیں۔البتہ انھیں مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں رہنے والے فلسطینیوں کے برعکس آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت ہے۔

بائیں بازو کے ترجمان اسرائیلی اخبار ہارٹز نے لکھا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد مقبوضہ بیت المقدس پر صہیونی ریاست کی گرفت کو مضبوط بنانا ہے اور اس کے تحت تین لاکھ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان روابط کو بھی بہتر بنانا ہے مگر اس منصوبے کا تعطل کا شکار امن مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں دریائے اردن کے غربی کنارے کے علاقے، غزہ کی پٹی اور مشرقی القدس پر قبضہ کر لیا تھا۔اس نے بعد میں مشرقی القدس کو اپنی ریاست میں ضم کرلیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے اور وہ اس کو ایک مقبوضہ شہر ہی قرار دیتی ہے۔

فلسطینی 1967ء کی جنگ سے ماقبل کی سرحدوں کے مطابق غزہ کی پٹی، غرب اردن اور القدس کے علاقوں پر مشتمل اپنی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس ہو گا۔ امریکا بھی اس تجویز کا حامی ہے لیکن اسرائیل اس کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور موجودہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کبھی سرحدوں سے متعلق اپنی تجاویز پیش نہیں کی ہیں ۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل مشرقی بیت المقدس پر اپنا قبضہ اور مغربی کنارے کی وادی اردن میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اس طرح وہ غرب اردن میں قائم یہودی بستیوں سے انخلاء کو بھی تیار نہیں۔ ان کی حکومت نے القدس اور غرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر بھی جاری رکھی ہوئی ہے اورسال 2013ء کے بعد سے یہودیوں کی آبادکاری کا عمل دُگنا تیز کر دیا ہے۔

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.