اسرائیلی وزات داخلہ کے زیر انتظام ادارہ برائے تعمیر منصوبہ بندی نے مقبوضہ بیت المقدس میں جبل المشارف کے مقام پر "نیشنل یہودی پارک” کے قیام کے اسرائیلی منصوبے کے خلاف فلسطینیوں کی شکایات کے علی الرغم تعمیراتی کام جاری رکھا ہوا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی تعمیراتی کونسل کل ہفتے کے روز منعقدہ اجلاس میں "نیشنل پارک” منصوبے پر العیساویہ اور الطور کے فلسطینی باشندوں کی طرف سے دائر اعتراضات کا جائزہ لیا گیا تاہم ساتھ ہی تعمیراتی فرموں اور ٹھیکیداروں کو کام جاری رکھنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں فلسطینی قصبات کے سیکڑوں شہریوں نے صہیونی تعمیراتی ادارے کو جبل المشارف میں یہودی پارک کی تعمیر کے خلاف شکایات درج کرائی تھیں، جس کے بعد کونسل نے ساٹھ روز کے لیے کام بند کرنے اور اعتراضات کا جائزہ لینے کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔
اعتراض کندگان کا کہنا ہے کہ نیشنل پارک کے قیام کے منصوبے سے بیت المقدس کے وسطی علاقوں العیساویہ اور الطور میں آباد ہزاروں فلسطینیوں کے لیے سنگین مشکلات پیدا ہوں گی اور ان کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔
پی آئی سی کی رپورٹ کے مطابق پارک کے تعمیر کے منصوبے پر فلسطینی اعتراضات کے باوجود تعمیراتی کام جاری رکھا ہوا ہے۔ حال ہی میں اسرائیلی تعمیراتی فرموں نے پارک کی حدود کی نشاندہی بھی کردی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینیوں کے اعتراضات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
مقامی فلسطینی وکیل زیاد قعوار کا کہنا ہے کہ جبل المشارف کے مقام پر یہودی پارک کی تعمیر فلسطینی شہریوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کرنے کی گہری سازش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے پارک کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ ہمارے اعتراضات کے بعد ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے۔ فلسطینیوں کو کہا جا رہا ہے کہ اسرائیلی انتظامیہ جبل المشارف میں پارک ضرور تعمیر کرے گی تاہم اس کی حدود میں تبدیلی کی جاسکتی ہے تاہم زیاد کا کہنا ہے کہ جبل المشارف میں یہودی قومی پارک کی تعمیر فلسطینیوں کی زندگی اجیرن بنانے کی سازش ہے اور فلسطینی اس کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
