اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے جمعرات کے روز منظوری دی ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی اسیران کو فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے دئیے جانے والے ماہانہ وظائف کو روک دیا جائے کیوںکہ یہ اسیران دہشت گرد کارروائیوں میں شامل ہیں۔
اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر معیشت نفتالی بینیٹ کی جانب سے جمع کروائے گئے بل کی منظوری دے دی گی جس کا مقصد اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی اسیران کو فلسطینی اتھارٹی کے فنڈز دینے سے روکنا ہے۔
وزارت نے الزام لگایا کہ فلسطینی اتھارٹی غیر ملکی امدادی فنڈز کو دہشت گرد کارروائیاں کروانے کے لئے استعمال کررہی ہے۔ بینٹ نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کون سا قانونی طریقہ استعمال کرتے ہوئے یہ ماہانہ وظائف روکیں گی کیوںکہ یہ وظائف فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے فراہم کئے جاتے ہیں۔
اسرائیلی وزیر کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے فلسطینی اسیران اور ان کے گھر والوں کو 44 ملین شیکلز [تقریبا 13 ملین ڈالرز] فراہم کئے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
