اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں "دہشت گرد” اور یہودیوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کا مرتکب قرار دیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق رومن وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاھو نے کہا کہ خالد مشعل یہودیوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے میں مصروف ہے۔ مشعل نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں یہودی آباد کاروں کے اغواء کی تعریف کی اور اغواء کاروں کو خراج تحسین پیش کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ حماس اسرائیل کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔اس موقع پر انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے جدہ میں او آئی سی اجلاس سے خطاب کے موقع پر تقریر کو "متوازن” قرار دیا۔ خیال رہے کہ محمود عباس نے اپنی تقریر میں تین لاپتا یہودی آباد کاروں کی تلاش کے لیے اسرائیل سے فوجی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔
نیتن یاھو نے کہا کہ مغربی کنارے میں ہمارے تین بچے اسکول سے واپس گھروں کو لوٹ رہے تھے کہ انہیں راستے سے اغواء کرلیا گیا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر یہودی آباد کاروں کے اغواء کی ذمہ داری حماس پرعائد کی اور صدر محمود عباس سے مطالبہ کیا کہ وہ حماس سے مفاہمتی معاہدہ توڑ دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ "میں حیران ہوں کہ صدر محمود عباس ایک جانب امن مذاکرات کی بات کرتے ہیں لیکن اگر یہ درست ہے تو وہ حماس جیسے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ اتحاد کیوں کیے ہوئے ہیں”۔
انہوں نے صدر محمود عباس کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ انہوں نے ایک ایسے گروپ کے ساتھ اتحاد کررکھا ہے جو یہودی بچوں کے اغواء میں ملوث ہے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے قطری ٹی وی الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ لاپتا ہونے والے یہودی لڑکے کہاں ہیں۔ آیا انہیں فلسطینی مزاحمت کاروں نے یرغمال بنا رکھا ہے یا نہیں۔ تاہم اگر یہودی لڑکوں کو یرغمال بنایا گیا ہے تو یہ قابل تحسین بات ہے۔
