اسرائیلی فوج کی تازہ بمباری سے فلسطینی شہر غزہ کی پٹی میں واقع دس اسکول تباہ ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں طلباء کی تدریسی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
فلسطینی وزارت تعلیم کے سیکرٹری زیاد ثابت نے غزہ کی پٹی میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ پچھلے چند روز سے اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں کم سے کم دس اسکولوں کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔
سیکرٹری تعلیم کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں مجموعی طور پر 37 ہزار 370 طلباء و طالبات ثانوی تعلیمی بورڈ کے امتحانات دے رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے اسکولوں اور امتحانی مراکز پر بمباری سے طلباء سخت خوف اور پریشانی کا شکار ہیں۔
زیاد ثابت نے اسرائیلی فوج کی جانب سے دانستہ طور پر فلسطینی اسکولوں کو بمباری کا نشانہ بنائے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک منظم سازش کے تحت فلسطینی طلباء کے تعلیمی اور تدریسی امور میں خلل پیدا کرکے فلسطینی قوم کو جہالت کی تاریکی میں رکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں کا سخت نوٹس لیں اور انہیں غزہ کے اسکولوں اور طلباء کو تحفظ فراہم کریں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
