فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے الخلیل شہر سے تین یہودی آباد کاروں کے پراسرار طور پر لاپتا ہونے کے بعد صہیونی فوج نے غرب اردن کے تمام شہروں میں کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے۔
عام مزدور پیشہ شہریوں کو مسلسل چھ روز سے سنگین نوعیت کی پابندیوں کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں انہیں جمعرات سے منگل تک 55 ملین شیکل کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین لیبر یونین کے جنرل سیکرٹری شاھر سعد نے پریس کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی حکومت فلسطینی مزدوروں کو اجتماعی سزا دے رہی ہے۔ فلسطینی مزدوروں اور ورکر پیشہ لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی پہلی دفعہ نہیں ہو رہی ہے بلکہ ہر دور میں اسرائیلی حکومتوں کی فلسطینیوں کے بارے میں یکساں معاندانہ پالیسی چلی آ رہی ہے۔
شاھر السعد کا کہنا تھا کہ الخلیل اور دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں فلسطینی مزدوروں کو مقبوضہ فلسطین کے دیگر علاقوں میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔ ان میں صرف الخلیل کے 26 ہزار 300 مزدور شامل ہیں۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں محنت کے لیے جانے والے الخلیل کے یہ محنت کش کل مزدوروں کا 35 فی صد بنتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت کو اسرائیل غیر قانونی قرار دیتی ہے۔ البتہ اسرائیلی حکومت تسلیم کرتی ہے کہ 28 ہزار محنت کش قانونی طور پر اسرائیل کا سفر کرتے ہیں جہاں انہیں محنت مزدوری کا حق حاصل ہے۔ ان میں 7800 الخلیل کے باشندے بھی شامل ہیں۔
فلسطینی لیبر فیڈریشن کے سربراہ نے بتایا کہ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق 35 ہزار افراد مغربی کنارے سے قانونی دستاویزات پر اسرائیل میں کام کاج کے لیے سفر کرتے ہیں۔ ان میں الخلیل شہر کے 6,500 محنت کش بھی شامل ہیں جبکہ 12 ہزار بغیر اجازت کے کام کرتے ہیں۔
شاھر السعد نے کہا کہ یہودی کالونیوں کے اندر رہنے والے 53 ہزار فلسطینی محنت کش مختلف شہروں میں کام کاج کے لیے سفر کرتے ہیں، لیکن گذشتہ ایک ہفتے سے اسرائیلی حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں کے بعد بالعموم پورے مغربی کنارے بالخصوص الخلیل میں قائم یہودی کالونیوں کے 4500 فلسطینی محنت کشوں کو دوسرے شہروں میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج فلسطینی محنت کشوں اور مزدور طبقہ افراد کو بھی "دہشت گرد” کے طور پر ڈیل کرتی ہے۔ ان کی سفری دستاویزات ان سے چھین لی جاتی ہیں اور ان کے سامنے انہیں پھاڑ دیا جاتا ہے۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 1255 فلسطینی محنت کشوں کی سفری دستاویزات ان سے چھین کر ضائع کردی گئی۔ 31 محنت کشوں کو حراست میں لیا گیا جب کہ 12 کو گولیاں مار کر زخمی کردیا گیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
