فلسطین کی تمام عسکری اور مزاحمتی جماعتوں کے متحدہ محاذ نے اسرائیل کی جانب سے دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے صہیونی جارحیت کا
پوری قوت سے مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق متحدہ مزاحمتی محاذ کی مرکزی قیادت نے غزہ کی پٹی میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ اسرائیلی فوج اور حکومت کی جانب سے طاقت کے استعمال کی دھمکیاں نئی نہیں۔ اسرائیلی دشمن کی دھمکیاں ہمیں ماضی میں خوف زدہ کر سکی ہیں اور نہ ہی آئندہ ان سے کوئی خوف ہے۔ اسرائیل کی طرف سے سامنے آنے والی دھمکیوں نے مجاہدین کو اپنی جنگی صلاحیت کو بہتر بنانے کا ہمیشہ ایک نیا موقع فراہم کیا ہے۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی یا فلسطین کے کسی بھی علاقے پر حملہ کیا تو مجاہدین اس کا منہ توڑ جواب دیں گے۔
نیوز کانفرنس میں ایک مشترکہ بیان بھی پڑھ کر سنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ "متحدہ مزاحمتی محاذ فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں کی رہائی کے لیے کی جانے والی کسی بھی کوشش کا خیر مقدم کرتا ہے۔ صہیونی جیلوں میں آزادی کے متوالوں کی رہائی ہماری قومی ذمہ داری ہے اور مجاہدین اپنے "ہیروز” کی رہائی کے لیے دشمن کے فوجیوں کو یرغمال بنانے سمیت تمام ممکنہ راستے اختیار کریں گے”۔
بیان میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ریاستی دہشت گردی، پکڑ دھکڑ اور شہریوں کو زدو کوب کرنے کی شدید مذمت کی گئی اور متاثرہ شہریوں سے مکمل یکجہتی کا بھی اظہار کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ غزہ کی پٹی، مقبوضہ مغربی کنارا اور بیت المقدس سمیت فلسطین کے تمام شہر جسد واحد کی مانند ہیں۔ غزہ کے عوام مشکل کی اس گھڑی میں مغربی کنارے کے متاثرین کے ساتھ ہیں۔
نیوز کانفرنس میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے عسکری ونگ عزالدین القسام شہید بریگیڈ، الناصر بریگیڈ، شہداء الاقصیٰ، انصار ابوعلی مصطفیٰ، قومی مزاحمت، سیف الاسلام، الصاعقہ، ناصر صلاح الدین اور دفاع اقصیٰ محاذ کے رہ کمانڈر اور مرکزی رہ نما شریک تھے۔
فلسطینی عسکری قیادت نے اسرائیل کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ اسرائیل طاقت کے ذریعے فلسطینی قوم کو اپنے سامنے جھکنے پر مجبور نہیں کرسکتا ہے۔ فلسطینی اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور آزادی کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
