اسرائیلی پارلیمنٹ میں ایک نئے مسودہ قانون پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت سنہ 1948 ء کے مقبوضہ فلسطینی شہروں سے تعلق رکھنے والے قیدی رہائی کے بعد نیشنل انشوریشن پروگرام کی سہولیات سے محروم رکھنے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی میڈیا میں آنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ یہ مسودہ قانون پارلیمنٹ کی "ایکشن کمیٹی” میں شامل حکومتی ارکان کی جانب سے پیش کیا گیا ہے جبکہ عرب کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان کنیسٹ نے مجوزہ قانونی بل کی سخت مخالفت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق فلسطینی اسیران کو رہائی کے بعد بیمہ سہولیات سے محروم رکھنے سے متعلق بل کی پارلیمنٹ میں پیشی کے بعد حکومت اور اپوزیشن ارکان میں تو تکار بھی ہوئی۔ عرب کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی رکن حنین الزعبی اور ایکشن کمیٹی کی چیئرپرسن میری ریگیو کے درمیان ایک دوسرے پر تنقید کے بعد نوبت تو تکار تک جا پہنچی تھی۔
گذشتہ روز مسودہ قانون پر پہلی رائے شماری میں قانون منظور نہیں کیا جاسکا تاہم آئندہ پیر کو دوبارہ اس پر دوسری اور تیسری بار رائے شماری کرائی جائے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
