فلسطینی قانون ساز کونسل کے فرسٹ ڈپٹی چئیرمین ڈاکٹر احمد بحر کے مطابق یہ حملے مفاہمتی عمل کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ بحر نے فلسطینی اتھارٹی کے چئیرمین محمود عباس سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کے بعد اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور ایک اسپیشل کمیٹی قائم کریں تاکہ حملوں کی اصلی وجوہات کا اندازہ لگایا جاسکے۔
حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابو زھری نے مرکز اطلاعات فلسطین کو دئیے جانیوالے خصوصی بیان میں بتایا کہ فلسطینی مظاہرین پر اس طرح کے حملوں سے اسرائیل کے ساتھ جاری سیکیورٹی تعاون کے اثرات نظر آتے ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی کی سیکیورٹی فورسز نے اسیرا جمال التاویل کی اہلیہ، ان کی صحافیہ بیٹی بشرہ اور ان کی بہن انتصار پر حملہکیا۔ یہ حملہ فلسطینی اتھارٹی کچھ دن قبل فلسطینی رہنما عباس السید کی اہلیہ پر ہونیوالے حملے سے مشابہت رکھتا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے اداروں نے حماس کے حمایتی چھ اور نوجوانوں کو اپنی حراست میں لے لیا ہے۔ اس موقع پر اسیر محمد عطاء کو سر پر انتہائی زور سے ضرب لگائی گئی جس کے نتیجے میں انہیں فوری ہسپتال لے کر جانا پڑا۔
ممبر پارلیمان فتحی قراوی کو طولکرم میں ایک مارچ کے دوران نشانہ بنایا گیا اور ان کی عینک توڑ دی گئی۔ حماس رہنام شیخ نزیح ابو عون کو دوسرے حماس ممبران کے ہمراہ نابلس میں گھیر لیا گیا اور پھر حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
