اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے جماعت کے مرکزی رہ نما اور بزرگ سیاست دان الشیخ حسن یوسف پر فلسطینی اتھارٹی کی پولیس کے وحشیانہ تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں حماس کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی ادارے توازن کھو بیٹھے ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطینی رکن پارلیمنٹ الشیخ حسن یوسف گذشتہ روز رام اللہ میں اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست بھوک ہڑتالی قیدیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے نکالی گئی ایک خواتین ریلی کی قیادت کررہے تھے کہ اچانک عباس ملیشیا کے غنڈوں نے انہیں گھیرے میں لے لیا اور خواتین کو زدو کوب کرنے کے بعد بزرگ سیاست دان الشیخ یوسف کو بھی وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابو زھری نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات قومی مفاہمت کو تباہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے قومی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عباس ملیشیا کو نہتے شہریوں پر تشدد سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
مرکز اطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے سامی ابو زھری نے کہا کہ فلسطینی قیدیوں سے یکجہتی کے لیے نکالی گئی ریلیوں پر عباس ملیشیا کے متواتر حملے اسرائیل سے سیکیورٹی تعاون کا نتیجہ ہیں۔ حماس اس تعاون کو کسی صورت میں قبول نہیں کرتی۔ عباس ملیشیا اگر قوم کا تحفظ نہیں کرسکتی ہے تو اسے یہ کام دوسروں کے حوالے کردینا چاہیے۔ یہ بات کس قدر شرمندگی کا باعث ہے کہ فلسطینی سیکیورٹی ادارے شہریوں کا تحفظ کرنے کے بجائے ان کے لیے وبال جان بنے ہوئے ہیں۔ عباس ملیشیا کے اقدامات سے ایسے لگ رہا ہے وہ قومی مفادات کے بجائے اسرائیلی مفادات کے لیے کام کررہی ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں حماس رہ نما الشیخ حسن یوسف، اسیر فلسطینی رکن اسمبلی الشیخ جمال الطویل کی اہلیہ ام عبد اللہ، ان کی بیٹی بشریٰ الطویل اور اس کی خالہ انتصار عابد کو عباس ملیشیا نے لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ الشیخ حسن یوسف زیادہ زخمی ہوئے ہیں جنہیں اسپتال داخل کیا گیا ہے۔
