خیال رہے کہ جمعہ اور ہفتے کے روز مغربی کنارے میں اسرائیلی جیلوں میں قید شہریوں کے اہل خانہ کے جلوسوں پر عباس ملیشیا نے سفاکانہ تشدد کیا جس کے نتیجے میں کئی خواتین شدید زخمی ہوگئی تھیں۔ عباس ملیشیا کے مسلح اہلکار پرامن احتجاج کرنے والی نہتی خواتین اور بچوں کو سڑکوں پر گھسیٹتے اور ان پر بہیمانہ تشدد کرتے رہے۔ عباس ملیشیا کے غنڈہ گردوں نے حماس کے اسیر رہ نما عباس السید کی اہلیہ اخلاص السید کا نقاب تک نوچ ڈالا اور انہیں سڑکوں پر بالوں سے پکڑ کر سرے عام گھسیٹا جس پر فلسطین میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف سیاسی اور سماجی جماعتوں کے رہ نماؤں اور دیگر شخصیات میں سے ہر ایک نے عباس ملیشیا کی مذموم حرکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ تمام اہم شخصیات نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے سیکیورٹی اداروں کی وحشیانہ کارروائی کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے سیکیورٹی اداروں کو قوم سے معافی مانگے کا پابند بنائے۔
فلسطین میں قیدیوں کے حقوق کے لیے سرگرم کمیٹی کی رکن اور سرکردہ خاتون سماجی رہ نما اسماء المدھون نے مرکز اطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عباس ملیشیا میں اسرائیلی درندہ فوجیوں کی روح حلول کر چکی ہے۔ فلسطینی سیکیورٹی اداروں کو قوم کا محافظ ہونا چاہیے لیکن عباس ملیشیا نے سڑکوں پر پرامن احتجاج کرنے والوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں، وہ اسرائیلی سفاک فوجیوں کے مظالم سے کسی طور پر کم نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ہر فلسطینی شہری کا بنیادی حق ہے اور عباس ملیشیا طاقت کے ذریعے اسرائیل نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام سے یہ حق نہیں چھین سکتی ہے۔
فلسطین کے ایک دوسرے سرکردہ سیاسی اور سماجی رہ نما عماد صلاح الدین نے کہا کہ حماس کے اسیر کمانڈر عباس السید کی اہلیہ اخلاص السید پر عباس ملیشیا کے تشدد کو پوری دنیا نے دیکھا۔ یہ تماشا صرف عباس ملیشیا ہی لگا سکتی ہے جو قومی اور اخلاقی روایات سے مکمل طور پر عاری ہوچکی ہے۔ جسے اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت عصمت کا بھی احساس نہیں۔ اس کے نزدیک فلاح الدارین صرف اسرائیل کی خوشنودی اور اس کی منشاء میں ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں عباس ملیشیا سے مطالبہ کیا کہ وہ خواتین پر غنڈہ گردی کے جرم میں قوم سے معافی مانگیں۔
فلسطینی مجلس قانون ساز کے ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر حسن خریشہ نے اسیران کے اہل خانہ اور بچوں پر عباس ملیشیا کے تشدد کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی سیاسی جماعتوں میں مفاہمت کے بعد اسرائیل نواز عناصر اپنا غصہ نکال رہے ہیں۔ انہوں نے عباس ملیشیا سے قوم سے معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا۔
ڈاکٹرحسن خریشہ نے فلسطینی اتھارٹی، صدر محمود عباس اور قومی حکومت کے سربراہ رامی الحمد للہ سے مطالبہ کیا کہ وہ خواتین مظاہرین پر تشدد کے مرتکب سیکیورٹی اہلکاروں کو فوری طور پر عہدوں سے فارغ کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لانے کے احکامات جاری کریں۔ ڈپٹی اسپیکر کا کہنا تھا کہ فلسطین میں حرمت اسیران کے قانون کے تحت شہریوں کو ہر قسم کا احتجاج ریکارڈ کرانے کا بھرپور حق حاصل ہے لیکن عباس ملیشیا نے عملا یہ ثابت کردیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نہتے شہریوں پر طاقت میں ملوث سیکیورٹی اداروں سے باز پرس کا حق نہیں رکھتی۔
