عرب ملک تیونس کی قانون ساز کونسل”پارلیمنٹ” نے فلسطین کے مقدس شہر بیت المقدس کے دفاع اور اس کی آزادی کے لیے اراکین پارلیمان پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دیا ہے۔ یہ گروپ عرب، مسلمان ممالک اور عالمی برادری میں بیت المقدس کے دفاع کے لیے اقدامات کرے گا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق تیونس میں اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل آرگنائزیشن کے چیئرمین الحبیب بریبش نے کل جمعہ کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی بالعموم پورے بیت المقدس کی آزادی بالخصوص مسجد اقصیٰ کے پہلو میں مراکشی کالونی کو واگزار کرانے کے لیے جدو جہد کرے گی۔خیال رہے کہ تیونس میں بیت المقدس کے دفاع کے لیے یہ کمیٹی ایک ایسے وقت میں قائم کی گئی ہے جب گذشتہ روز تیونس سمیت دنیا کے 82 شہروں میں جلسے جلوس، ریلیاں اور سیمینارز کا اہتمام کیا گیا۔ جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
رپورٹ کے مطابق تیونس کے صدر مقام تیونسیہ میں پریس کانفرنس کے دوران ملک کی اعتدال پسند مذہبی سیاسی جماعت تحریک النہضہ اور کئی دوسری سیاسی جماعتوں کے ارکان بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بیت المقدس می مراکشی کالونی کی آزادی اور اس میں موجود فلسطینی شہریوں کے بنیادی حقوق کے لیے ہر عالمی فورمز پر کام کریں گے۔
