انسانی حقوق کی ایک عالمی تنظیم "ڈاکٹر ایسوسی ایشن برائے انسانی حقوق” نے اسرائیلی جیلوں میں 42 دن سے بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینیوں کی زندگیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صہیونی ریاست سے اسیران کے تمام جائز مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ڈاکٹر ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے مندوبین نے اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست فلسطینی بھوک ہڑتالی قیدیوں سے ملاقات کی کوشش کی تھی لیکن صہیونی جیل حکام نے انسانی حقوق کے مندوبین کو اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسیران کے بنیادی مطالبات تسلیم نہ کرنا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو اسیران سے ملاقات کی اجازت نہ دینا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ادھر انسانی حقوق کی ایک دوسری تنظیم "اسٹڈی سینٹر برائے اسیران” کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی جیل حکام نے بھوک ہڑتالی اسیران کے مطالبات پورے کرنے کے بجائے انہیں زیادہ اذیتیں دینا شروع کردی ہیں۔ بھوک ہڑتالی اسیران طویل بھوک ہڑتال کے باعث کھڑے ہونے سے قاصر ہیں جبکہ جیلر انہیں کئی کئی گھنٹے کھڑے رکھنے کی سزائیں دیتے ہیں کھڑے نہ ہو پانے والے قیدیوں کو 400 شیکل جرمانہ کیا جاتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
