فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی مظالم اور قابض فوج کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف نکالے گئے ایک جلوس پر صہیونی فوجیوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں جبکہ ریلی میں شریک کم سے کم دس افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق بدھ کو شام کے وقت بیت المقدس کے باب العامود کے قریب فلسطینی شہری صہیونی ریاستی جرائم، فلسطینیوں کی مکانات مسماری اور ان کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خلاف مارچ کررہے تھے کہ اس دوران قابض صہیونی فوجیوں نے ان پر لاٹھی چارج اور اشک آور گیس کی شیلنگ شروع کردی۔
مشتعل فلسطینی شہریوں نے قابض صہیونی فوجیوں پر جواب میں سنگ باری تاہم قابض فوج کے تشدد سے کئی افراد زخمی ہوگئے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ فلسطینی شہریوں اور صہیونی فوج کے درمیان کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب شہریوں نے القدس پر قبضے کی یاد میں باب العامود کے مقام پر ایک احتجاجی مظاہرے کی کوشش کی۔ اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو احتجاجی جلوس نکالنے سے روکا تو فلسطینی مشتعل ہوگئے۔ انہوں نے صہیونی فوج پر سنگ باری اور ان نعرے بازی شروع کردی۔ اس پر قابض فوج نے انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور کم سے کم دس افراد کو حراست میں لیے جانے کے بعد نامعلوم مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔
ادھر اسی علاقے میں سیکڑوں یہودی شرپسندوں نے فلسطینیوں کے خلاف بھی جلوس نکالا، تاہم قابض فوجیوں نے انہیں منع کرنے کے بجائے ہرممکن تحفظ فراہم کیا۔ انتہا پسند یہودیوں نے مارچ کے دوران اشتعال انگیز نعرے لگائے جس پر فلسطین میں سخت غم وغصے کی فضاء پائی جا رہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
