اسرائیلی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2011 ء سے 2014 ء کے درمیان مجموعی طور پر 409 یہودی آباد کاروں نے خود کشی کرکے خود کو موت سے ہمکنار کیا۔ سالانہ یہ تعداد 120 تک جا پہنچتی ہے۔
اس کے علاوہ خود کشی کے کم سے کم چھ ہزار واقعات ایسے ہیں جن میں خود کشی کی کوشش کرنے والوں کو بچالیا گیا۔
اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت” نے صہیونی وزارت دفاع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ خود کشی کے زیادہ تر واقعات گلے میں پھندا ڈالنے سے ہوئے۔ 1 فی صد واقعات میں خود کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا، 11 فی صد نے بلند عمارت سے کود کو خود کشی کی جبکہ 09 فی صد افراد کی موت زہر خورانی سے واقع ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق سنہ 2011 ء میں سابق سوویت یونین سے تعلق رکھنے والے 91 یہودی آباد کاروں نے خود کشی کی جبکہ ایتھوپیا کے خود کشی کرنے والے یہودی آباد کاروں کی تعداد 16 تھی۔
رپورٹ کے مطابق خود کشی کرنے والے مجموی یہودی آباد کاروں میں چار فی صد اسرائیلی فوجی بھی شامل ہیں۔ گذشتہ ایک سال کے دوران کم سے کم 11 یہودی آباد کاروں نے خود کشی کی۔ فوج میں خود کشی کی شرح نہایت خطرناک سمجھی جاتی ہے۔ فوج میں خود کشی کے کئی اسباب ہیں۔ ان میں گھریلو جھگڑے، معاشی مسائل اور امن و امان کی خراب صورت حال اہم اسباب ہیں۔
