اسرائیلی حکومت نے پاپائے روم فرانسیس اول کے دورہ فلسطین کے موقع پر 3000 ایکڑ رقبہ فلسطینیوں سے ہتھیانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب پاپائے روم مغربی کنارے کے علاقے بیت لحم کے دورے پر تھے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ عرب علاقوں میں یہودی توسیع پسندی کے امور پر نظر رکھنے والے فلسطینی تجزیہ نگار خالد معالی بتایا کہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے پہلے ہی سیکڑوں ایکڑ اراضی ہتھیانے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا تاہم اس کا اعلان پاپائے اعظم کے دورہ فلسطین تک موخر کیا گیا تھا۔ فلسطینیوں کی تین ہزار ایکڑ اراضی ہتھیانے کا اعلان دراصل پوپ کے آزاد فلسطینی ریاست کے اعلان کا رد عمل ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ عرب علاقوں میں یہودی توسیع پسندی کے امور پر نظر رکھنے والے فلسطینی تجزیہ نگار خالد معالی بتایا کہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے پہلے ہی سیکڑوں ایکڑ اراضی ہتھیانے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا تاہم اس کا اعلان پاپائے اعظم کے دورہ فلسطین تک موخر کیا گیا تھا۔ فلسطینیوں کی تین ہزار ایکڑ اراضی ہتھیانے کا اعلان دراصل پوپ کے آزاد فلسطینی ریاست کے اعلان کا رد عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے تین ہزار ایکڑ رقبہ فلسطینیوں سے ہتھیانے کا اعلان کر کے ویٹیکن، عالمی برادری بالخصوص فلسطینی ریاست کی حمایت اور یہودی توسیع پسندی کی مخالفت کرنے والوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رہے گا۔ چاہے اس پر دنیائے عیسائیت کے روحانی پیشوا اور یا کسی بھی ملک یا شخصیت کو اعتراض ہو۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز پاپائے روم نے رام اللہ دورے کے دوران فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے بھی ملاقات کی تھی۔ ملاقات میں انہوں نے آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی کھل کر حمایت کی تھی۔
