برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں قائم فلسطینی اتھارٹی کے سفارت خانے کی جانب سے فلسطینی طلباء کے مسائل کے حل میں ناکامی اور دانستہ غفلت پر طلباء نے سخت احتجاج کیا ہے۔
برطانیہ میں فلسطینی طلباء کی نمائندہ تنظیم "جنرل یونین آف اسٹوڈنٹس” کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ لندن میں فلسطینی سفارت خانہ برطانیہ میں موجود فلسطینی طلباء کے مسائل کے حل میں دانستہ طورپر غفلت کا مظاہرہ کررہا ہے، جس کے نتیجے میں طلباء سخت پریشان ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی طلباء نے اپنے مسائل کے حل میں مدد طلب کرانے کے لیے تنظیم آزادی فلسطین کے رہ نماؤں سے بھی رابطے کیے تاکہ وہ سفارت خانے کو طلباء کی مشکلات میں ان کی مدد کے لیے دباؤ ڈال سکیں لیکن اس کے باوجود طلباء کی پریشانیوں میں کمی نہیں آئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی سفارت خانہ برطانیہ میں موجود طلباء کو 500 آسٹریلو پاؤنڈ وظیفہ جاری کرنے کا پابند ہے لیکن طلباء کو فنڈز کی کمی کے بہانے سے ٹرخا دیا جاتا ہے جبکہ سفارتی عملہ خود عیاشیوں میں مصروف ہے۔ تعلقات عامہ کے نام پر منعقدہ تقریبات میں لاکھوں ڈالر اڑائے جا رہے ہیں لیکن مستحق طلباء کو چند سو ڈالر کا وظیفہ نہیں دیا جاتا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی سفارت خانہ کسی بھی فلسطینی رہ نما کے ساتھ طلباء کی ملاقات کا وقت نہیں دیتا، جس کے نتیجے میں طلباء میں سخت مایوسی پائی جا رہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
